Bharat Express DD Free Dish

RJD

راشٹریہ جنتا دل (آرجے ڈی) کی نیشنل ایگزیکٹیوکی میٹنگ کے دوران آر جے ڈی کے قومی جنرل سکریٹری بھولا یادو نے تیجسوی یادوکو قومی ایگزیکٹیو صدر بنانے کی تجویز پیش کی۔

آرجے ڈی نیشنل ایگزیکٹیو کی اتوار (25 جنوری) کو ہونے والی میٹنگ میں بہت سے اہم فیصلے لئے جائیں گے۔ تیجسوی یادو کوایک بڑی ذمہ داری مل سکتی ہے اوراس کا باضابطہ اعلان لالو پرساد یادو کرسکتے ہیں۔

آر جے ڈی کے ترجمان مرتیونجے تیواری نے بنگلہ دیش میں اقلیتوں پر ہو رہے مظالم کے حوالے سے کہا کہ ہندوؤں پر ظلم ہو رہا ہے، ہندوؤں کی جانیں جا رہی ہیں اور حکومت تماشائی بنی ہوئی ہے۔ یہ حکومت پوری طرح ناکام ہو چکی ہے اور اپنے ہندوؤں کی بھی حفاظت نہیں کر پا رہی ہے۔

تیواری نے این ڈی اے کی بے چینی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ 202 سیٹوں کے ساتھ حکومت میں ہونے کے باوجود این ڈی اے کے لیڈر بے چین اور پریشان کیوں محسوس کر رہے ہیں؟ یہ صاف ظاہر کرتا ہے کہ حکومت کے اندر کچھ گڑبڑ ہے۔ جس طرح این ڈی اے کے اتحادیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور انہیں توڑنے کی کوششیں ہو رہی ہیں، یہی اس بے چینی کی وجہ ہے۔

بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا کے اس بیان پر کہ “2013 کے نکسلی حملے میں کانگریس کے لوگ شامل تھے”، منوج جھا نے اسے نہایت سنگین الزام قرار دیتے ہوئے جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بہت سنجیدہ الزام ہے۔ آپ حکومت کا حصہ ہیں، اگر یہ سچ ہے تو ثبوت پیش کریں۔

لالو یادواورنتیش کمارکی طرح ہی وجے کرشنا جے پی تحریک سے ابھرے ہوئے لیڈرہیں۔ نتیش کمار بختیارپور میں رہتے تھے تو ان سے تقریباً 8 کلو میٹر دور اتھمل گولہ کے کلیان پور گاوں میں وجے کرشنا رہتے تھے۔ دونوں نے ایک ساتھ خوب سیاست کی ہے۔

روہنی آچاریہ نے سیاست سے استعفیٰ دینے اور خاندان سے علیحدگی کے بارے میں کہا کہ اب میرا کوئی خاندان نہیں ہے۔ میرے بھائیوں نے مجھے الگ کر دیا ہے۔ وہ ذمہ داری نہیں لینا چاہتے۔ پورا ملک پوچھ رہا ہے کہ پارٹی کیوں ناکام ہوئی۔

بہار اسمبلی انتخابات 2025 کے حتمی نتائج نے ریاست کی سیاست میں ایک نیا باب رقم کر دیا ہے، جہاں این ڈی اے نے ریکارڈ توڑ کارکردگی دکھاتے ہوئے پہلی بار 200 سے زائد نشستیں حاصل کر لی ہیں۔

کچھ سیٹیں ایسی ہیں جہاں امیدوار صبح 11 بجے سے ہی تقریباً 10 ہزار ووٹوں سے آگے ہیں۔ ان میں بکسر کے مُنا تیواری سمیت منیر سے بھائی ویرندر کا نام بھی شامل ہے۔

تیجسوی یادو نے کہا کہ بہار کے عوام کو اب تک صرف وعدے، جملے، جھوٹ اور فریب ہی ملے ہیں۔ یہ سب اب بہار ایک لمحہ بھی برداشت نہیں کرنا چاہتا۔ پچھلے کئی برسوں میں ہم نے بہار کی ترقی کی پالیسی بنانے میں سخت محنت کی ہے۔