Bharat Express DD Free Dish

Rahul Gandhi

فاروق عبداللہ نے کہا کہ راہل گاندھی نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایسا انتظام کر لیا ہے کہ اب بہار کا الیکشن جیت لیا جائے گا۔ فاروق عبدالل نے کہا کہ وہ خود بھی اس معاملے کی حقیقت جاننا چاہتے ہیں اور اسی لیے اس میٹنگ میں جا رہے ہیں۔

راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے، لیکن جو ایٹم بم انہوں نے کرناٹک میں 6 ماہ کی محنت سے بنایاہے، اب وہ کمیشن کے افسران پر ہی پھٹیں گے۔ 'ایٹم بم' کب اور کہاں پھٹے گا؟ تاریخ طے ہے - 5 اگست جگہ مقرر ہے۔

راہل گاندھی نے یہ بھی الزام لگایا کہ بی جے پی نے ارب پتی گوتم اڈانی کی مدد کے لیے ہندوستانی معیشت کو تباہ کر دیا ہے۔

امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ نے بھارت پر25 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان کیا ہے۔ اس پر کانگریس نے مرکزی حکومت کوگھیرلیا ہے۔ ایک پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ نے ہندوستان پر25 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے اورجرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ نریندرمودی کی 'دوستی' کا خمیازہ ملک بھگت رہا ہے۔ بھارت کی خارجہ پالیسی مکمل طورپر ناکام ہو چکی ہے۔

ہندوستان اورپاکستان کی حالیہ کشیدگی کو ختم کرنے سے متعلق امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ کی طرف سے مسلسل کئے گئے دعووں سے ہندوستان میں سیاسی بیان بازی تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ ایسے میں ایک بارپھراس معاملے میں کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی نے وزیراعظم مودی پرتنقید کی ہے۔

فوج کو پوری آزادی دینی ہوتی ہے۔ سیاسی عزائم کی ضرورت ہوتی ہے۔ فوج کے استعمال کے لیے سیاسی عزائم ضروری ہیں۔ 1971 میں تب کی وزیراعظم نے امریکہ کی پروا نہیں کی۔ ایک لاکھ پاکستانی فوجیوں نے سرینڈر کیا۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے لوک سبھا میں آپریشن سندور پربحث میں حصہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ میں آپریشن سندورکی وزیردفاع کی تقریرسن رہا تھا۔ انہوں نے وقت بتاتے ہوئے کہا کہ آپریشن سندور22 منٹ میں مکمل ہوا۔ اس کے بعد ہم نے پاکستان کوبتایا کہ ہم نے فوجی ٹھکانوں کونشانہ بنایا ہے۔ کیا یہ وزیر دفاع کے الفاظ ہونے چاہئیں؟ یہ کیسی قوت ارادی ہے؟ اس حکومت میں لڑنے کی طاقت نہیں تھی۔

راہل گاندھی نے عریبہ فاطمہ اور زین علی سے ملاقات کی جن کے اہل خانہ ان حملوں میں مارے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے تم پر فخر ہے، تمہارا درد میرا درد ہے۔ لیکن اب تمہیں ہمت سے کام لینا ہے، دل لگا کر پڑھائی کرنی ہے اور اپنی زندگی کو بہتر بنانا ہے۔

دیویہ دیشمکھ کی یہ فتح نہ صرف ایک عالمی اعزاز ہے بلکہ ایک نئی نسل کے اعتماد اور محنت کی گواہی ہے۔ ان کی کامیابی نے شطرنج کے کھیل کو ایک بار پھر بھارت میں مرکز توجہ بنا دیا ہے، اور قوم بھر میں ان کے اعزاز میں جشن کا ماحول ہے۔

ڈاکٹر سید ناصر حسین نے کہا کہ یہ سلسلہ اعتماد اور آئینی حقوق کو ختم کر رہا ہے، اور انہوں نے انصاف کی فوری فراہمی کا مطالبہ کیا۔ ان کا موقف ہے کہ اقلیتوں کے تحفظ اور وقار کو یقینی بنانا ضروری ہے، اور اس شرمناک سلوک کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔