Bharat Express DD Free Dish

Rahul Gandhi

راہل گاندھی میں بھارت اور اس کی ثقافت کی کوئی جانکاری نہیں پائی جاتی۔ انہوں نے مزید طنزاً کہا کہ گاندھی نے دوسروں کو خوف نہ کرنے کا مشورہ دیا، لیکن خود خوف کی وجہ سے سیاست سے پیچھے ہٹ گئے۔

واضح رہے کہ ایس ایس سی فیز 13 امتحان کے پہلے دن ہی کئی مراکز پر تکنیکی وجوہات کے سبب امتحانات ملتوی کر دیے گئے تھے، جس سے امیدواروں میں شدید ناراضگی دیکھنے کو ملی۔ یہ واقعہ ایک بار پھر بھارت میں امتحانات کے نظام کی کمزوری کو نمایاں کرتا ہے۔

سمیلن سے خطاب کرتے ہوئے، کانگریس کے سابق صدر نے کہاکہ میں 2004 سے سیاست کر رہا ہوں۔ جب میں اپنا جائزہ لیتا ہوں تو مجھے معلوم ہوتا ہے کہ کہیں میں نے اچھا کام کیا ہے اور کہیں مجھ میں کمی ہے، چاہے یہ قبائلیوں، دلتوں اور اقلیتوں کے بارے میں ہو، مجھے اچھے نمبر ملنے چاہیے۔

’بھاگیداری نیائے سمیلن‘ سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ملک میں دلت، پسماندہ، قبائلی، اقلیتی طبقے کی آبادی تقریباً 90 فیصد ہے۔ لیکن بجٹ بننے کے بعد جب حلوہ تقسیم کیا جا رہا تھا تو وہاں 90 فیصد کی آبادی کا کوئی نہیں تھا۔ ملک کی 90 فیصد کی آبادی ہی پروڈکٹیو فورس ہے۔ حلوہ بنانے والے لوگ آپ ہیں لیکن حلوہ وہ کھا رہے ہیں۔ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ حلوہ وہ نہ کھائیں، لیکن کم از کم آپ کو بھی تو ملے۔

راہل گاندھی کو پونے میں بھی ساورکر مخالف بیان کے سبب ہتک عزت کے ایک مقدمے کا سامنا ہے، جو ساورکر کے پوتے کی طرف سے دائر کیا گیا ہے۔

راہل گاندھی نے الیکشن کمیشن کو دو ٹوک پیغام دیتے ہوئے کہاکہ اگر آپ سمجھ رہے ہیں کہ آپ اس سے بچ جائیں گے، اگر آپ کے افسران سمجھ رہے ہیں کہ وہ اس سے بچ جائیں گے، تو آپ غلط فہمی میں ہیں۔ ہم آپ کے پیچھے پڑیں گے۔

اجلاس کے دوسرے دن کے آغاز پر اپوزیشن لیڈروں نے پارلیمنٹ کے ’مکر دوار‘ کے باہر مشترکہ احتجاج کیا۔ انہوں نے الیکشن کمیشن پر بہار میں انتخابات سے قبل SIR مہم کو ’متعصبانہ اور غلط‘ انداز میں چلانے کا الزام لگایا۔ اس احتجاج میں کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور ایس پی سربراہ اکھلیش یادو جیسے بڑے لیڈروں نے شرکت کی۔ وہ تختیاں اور پوسٹر لہرا رہے تھے جس میں انتخابی ہیرا پھیری کا الزام لگایا گیا تھا۔

پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس پیر کے روز سے شروع ہو گیا ہے، حکمراں اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان ’آپریشن سندور‘ پر تلخ تکرار نے ایوان میں ہنگامہ برپا کر دیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمنٹ میں جہاں پہلگام دہشت گردانہ حملے پر حکومت سے جواب اور آپریشن سندور کی شفافیت کا مطالبہ کرتے ہوئے زبردست نعرے بازی کی۔

پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کی شروعات ہنگامے کے ساتھ ہوئی۔ اپوزیشن پارٹیوں نے آپریشن سندوراورپہلگام حملے سے متعلق ایوان میں بحث کا مطالبہ کیا، جس سے لوک سبھا کی کارروائی دو بار ملتوی کرنی پڑی۔ مرکزی وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ حکومت معنیٰ خیزبحث کے لئے تیارہے۔

لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈرراہل گاندھی کے علاوہ بی جے پی کے ممبران پارلیمنٹ انوراگ ٹھاکر، روی شنکرپرساد، راجیو پرتاپ روڑی، پی پی چودھری، سپریا سولے اورکے سی وینوگوپال مواخذے کی تحریک پردستخط کرنے والوں میں شامل ہیں۔ پارلیمنٹ اب جسٹس ورما کے خلاف الزامات کی تحقیقات کرے گی۔