Bharat Express DD Free Dish

Rahul Gandhi

لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے جمعرات کے روز ایک پریس کانفرنس میں الیکشن کمیشن پر سنگین الزامات لگائے۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ساتھ مل کر انتخابات میں دھاندلی کر رہا ہے اور جمہوریت کو کمزور کر رہا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ہمارے آئین کی بنیاد ’ایک شخص، ایک ووٹ‘ کے اصول پر ہے۔

کافی وقت بعد کیرالہ کے ترواننتاپورم سے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور اپنی پارٹی کی حمایت میں کھل کر سامنے آئے۔ ششی تھرور نے جمعے کو راہل  گاندھی کے ’ووٹ چوری‘ والے الزامات کی حمایت کی۔ راہل  گاندھی نے 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی اور الیکشن کمیشن کے درمیان ملی بھگت سے ایک "بڑے مجرمانہ فراڈ" کا الزام لگایا تھا۔

بہار میں جلد اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں ،راہل-تیجسوی کا بہار میں رواں ماہ کے آخری ہفتے مشترکہ مارچ ہونے والا ہے۔ اس موقع پر انڈیا الائنس کے تمام بڑے لیڈر جمع ہو سکتے ہیں۔ تیجسوی یادو نے اس سلسلے میں آج تمام لیڈروں کو مدعو کیا ہے،تاکہ بہار میں انڈیا الائنس کی اگلی میٹنگ کی جاسکے۔

سی ای او نے راہل گاندھی سے درخواست کی ہے کہ وہ ووٹر لسٹ میں شامل یا ہٹائے گئے افراد کے نام، پارٹ نمبر اور سیریل نمبر کے ساتھ حلف نامہ جمع کرائیں تاکہ ضروری کارروائی شروع کی جا سکے۔ حلف نامے میں یہ بھی بتانا ہو گا کہ دی گئی معلومات درست ہیں، غلط معلومات دینے پر قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

راہل گاندھی نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ جہوریت میں ہر پارٹی کا اقتدار کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن بی جے پی ایسی پارٹی ہے، جس پر اس کا اثرنہیں پڑتا ہے۔

اپوزیشن کی آئندہ کی حکمت عملی طے کرنے کے حوالے سے یہ میٹنگ انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔ سب کی نظریں اس پر لگی ہوئی ہیں کہ اپوزیشن کوئی ٹھوس قدم اٹھائے گی یا یہ صرف ایک رسمی بحث ہی رہ جائے گی۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ٹرمپ نے روس کے ساتھ تیل کی تجارت جاری رکھنے کی وجہ سے ہندوستان کو سزا دیتے ہوئے نئی دہلی پر 25 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرنے کا ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا۔ ایم ای اے نے اس اقدام کو "غیر منصفانہ، غیر معقول اور ناقابل قبول" قرار دیتے ہوئے تنقید کی۔

بی جے پی لیڈرپرتاپ کٹیہارنے ہتک عزت کا مقدمہ دائرکیا تھا۔ یہ تنازعہ 28 مارچ 2018 کوراہل گاندھی کے ایک بیان کے بعد شروع ہوا تھا۔ راہل گاندھی نے امت شاہ پرتبصرہ کیا تھا۔

سپریم کورٹ نے پیر کے روز راہل گاندھی کے خلاف دسمبر 2022 کی بھارت جوڑو یاترا کے دوران فوج کے بارے میں ان کے تبصروں پر لکھنؤ کی ایک عدالت میں کارروائی پر روک لگا دی۔

راہل گاندھی نے یہ بیان16 دسمبر 2022 کو اپنی بھارت جوڑو یاترا کے دوران میڈیا اور عوام کے سامنے دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’’لوگ بھارت جوڑو یاترا، گہلوت، سچن پائلٹ پر سوال کرتے ہیں لیکن چین نے 2000 مربع کلومیٹر زمین پر قبضہ کر لیا، 20 جوان شہید ہوئے، اروناچل میں فوجیوں کو پیٹا گیا، اس پر کوئی سوال نہیں کرتا۔‘‘