Bharat Express DD Free Dish

Rahul Gandhi

کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے آج کی یاترا گیاجی سے شروع کیا۔ اس تسلسل میں جیسے ہی ان کی یاترا گیاجی کے وزیر گنج پہنچا، انہوں نے اپنے قافلے کو روکا اور قریبی گاؤں منینی پہنچ گئے۔ ان کے ساتھ آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو اور عظیم اتحاد کے سرکردہ لیڈران بھی تھے۔ اس سلسلے میں انہوں نے گاؤں والوں سے بات چیت کی اور یہاں کے مسائل جانے۔

کانگریس سمیت پوری اپوزیشن نے بہار میں SIR کا سختی سے مخالفت کی تھی۔ وہیں کانگریس رہنما راہل گاندھی نے بھارتیہ جنتا پارٹی اور الیکشن کمیشن پر سنگین الزامات لگائے تھے۔

بھارت کے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے یہ بھی کہا کہ الیکشن کمیشن 75 سالوں سے پوری ایمانداری سے کام کر رہا ہے، اگر آپ ووٹر لسٹ اور ووٹنگ کو ملا کر الیکشن کمیشن پر بے بنیاد الزامات لگائیں گے اور کہیں گے کہ چوری ہو رہی ہے، تو یہ غلط ہے، عوام سب سمجھتی ہے۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے کہا کہ وہ بہار میں ایس آئی آر کرکے، حقیقی ووٹروں کو کاٹ کر، نئے ووٹروں کو شامل کرکے الیکشن جیتنے کی کوشش کریں گے، لیکن بہار کے لوگ انہیں ووٹ چوری نہیں کرنے دیں گے۔ یہ بات پورا ملک جانتا ہے۔

کانگریس ایس آئی آر کو لے کر الیکشن کمیشن کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہے اور اس پر حکمراں بی جے پی کے ساتھ ملی بھگت کا الزام لگا رہی ہے تاکہ اس عمل کی آڑ میں ووٹر لسٹ میں ہیرا پھیری کی جا سکے۔

آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے ملک میں آبادیاتی تبدیلی کے بیان پر کہا کہ آخر 11 سال سے کیا کر رہے تھے؟ جھارکھنڈ میں بھی یہ مسئلہ اٹھایا گیا تھا، عوام نے منہ توڑ جواب دیا تھا۔ جب جب الیکشن آتا ہے، انہیں دراندازوں کی یاد آ جاتی ہے۔

'ووٹ چوری' مہم سے متعلق کانگریس نے ایک اورویڈیو سوشل میڈیا پر شیئرکیا ہے۔ اس ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ کیسے لوگوں کے ووٹوں کی چوری ہو رہی ہے۔ راہل گاندھی نے ویڈیو کے کیپشن میں لکھا کہ اب اورانہیں عوام بیدار ہوگئی ہے۔

وزیر اعظم کو قومی دن پر ملک میں اتحاد، بھائی چارے اور ہم آہنگی کی بات کرنی چاہیے، نہ کہ سیاسی مخالفین پر الزامات کی بوچھار۔ سپل نے کہا:آئین نے وزیر اعظم کو ملک کو جوڑنے کی ذمہ داری دی ہے، مگر گزشتہ گیارہ سالوں میں یہ کردار نظر نہیں آیا۔

ریاست کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے ’ایکس‘ پر لکھا:"تمام اہلِ وطن کو 79ویں یومِ آزادی کی دلی مبارکباد اور نیک خواہشات۔

راہل گاندھی نے کہا کہ ’’یہ صرف انتخابی مسئلہ نہیں بلکہ جمہوریت، آئین اور ’ایک شخص، ایک ووٹ‘ کے اصول کا تحفظ ہے۔‘‘