Bharat Express DD Free Dish

Rahul Gandhi

لوک سبھا میں ناری شکتی وندن سمیت تین بلوں پر اپنی بات رکھتے ہوئے اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا کہ میں 20 سال میں جو حاصل نہیں کرسکا وہ میری بہن نے پانچ سال میں حاصل کرلیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بل خواتین کے لئے نہیں ہے۔ راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ اوبی سی اور دلتوں کو ہندو کہا جاتا ہے، لیکن انہیں حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے۔

ذرائع کے مطابق اپوزیشن اس میٹنگ میں اس بات پر بھی غور کرے گی کہ پارلیمنٹ میں حکومت کو کن نکات پر گھیرنا ہے اور کس طرح ان حساس معاملات کو عوامی سطح پر اٹھایا جائے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ میٹنگ اپوزیشن اتحاد کے لیے اپنی یکجہتی کو مضبوط کرنے کا ایک اہم موقع ثابت ہو سکتی ہے۔

کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) کی حالیہ میٹنگ میں مغربی ایشیا بحران، پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس اور خواتین ریزرویشن و حلقہ بندی جیسے اہم سیاسی مسائل پر تفصیل سے تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں حکومت کی خارجہ پالیسی اور پارلیمانی طریقۂ کار پر سنجیدہ سوالات اٹھائے گئے، جس کے بعد سیاسی بحث مزید تیز ہو گئی ہے۔

اس موقع پر صدر دروپدی مرمو،  لو ک سبھا کے اسپیکراوم برلااور نریندر مودی سمیت متعدد مرکزی لیڈروں نے پارلیمنٹ ہاؤس احاطے میں مہاتما جیوتی راؤ پھولے کی تصویر پر پھول چڑھا کر انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔

سابق مرکزی وزیر محسنہ قدوائی کی میت نوئیڈا میں واقع ان کی رہائش گاہ پر آخری دیدار کے لیے رکھی گئی ہے۔ اس کے بعد انہیں دہلی کے نظام الدین قبرستان کے قریب واقع قبرستان لے جایا جائے گا، جہاں آج شام 5 بجے انہیں سپردِ خاک کیا جائے گا۔

امت شاہ نے کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ ووٹ بینک کی سیاست کے لیے دراندازوں کو تحفظ دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے ماضی میں ایسے قوانین بنائے جن سے غیر قانونی دراندازی کو فروغ ملا۔ امت شاہ نے شہریت ترمیمی قانون کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اس کی مخالفت محض سیاسی فائدے کے لیے کرتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس نے ماضی میں ایسے اقدامات کیے جن سے آسام میں دراندازی بڑھی۔

پڈوچیری میں اسمبلی انتخابات 9 اپریل کو ہوں گے جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ امت شاہ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ایک بار پھر این ڈی اے حکومت کو منتخب کریں تاکہ ترقیاتی کاموں کو مزید آگے بڑھایا جا سکے۔

انڈین نیشنل کانگریس، ترنمول کانگریس اور لیفٹ فرنٹ کے درمیان سب سے واضح ٹکراؤ مغربی بنگال میں دیکھنے کو مل رہا ہے، جہاں 294 نشستوں پر ہونے والے اسمبلی انتخابات میں تینوں جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف میدان میں ہیں۔ انتخابی جلسوں میں ایک دوسرے پر سخت سیاسی حملے کیے جا رہے ہیں، جس سے اتحاد کی کمزوریاں نمایاں ہو رہی ہیں۔

2018 کے احتجاج کے دوران درج مقدمات کو ختم کرنے اور متاثرہ نوجوانوں کو راحت دینے کی اپیل۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان تمام مقدمات کو یا تو ختم کیا جائے یا واپس لیا جائے تاکہ ان نوجوانوں کو طویل قانونی کارروائیوں کے بوجھ سے نجات مل سکے اور وہ اپنی زندگی کو بہتر طریقے سے آگے بڑھا سکیں۔

آسام کی تمام 126 نشستوں پر ووٹنگ ایک ہی مرحلے میں 9 اپریل کو ہوگی، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ آسام میں اس بار حکمراں بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے اور کانگریس کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔