Bharat Express DD Free Dish

Rahul Gandhi

ایک طرف عدالت میں اس کی سماعت جاری ہے، تو دوسری جانب سیاسی حلقوں میں بھی اس پر بحث تیز ہو گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق عدالت کا حالیہ فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عدالتی عمل میں فریقین کو مکمل موقع دینا بنیادی اصول ہے۔ حتمی فیصلہ آنے تک یہ معاملہ زیر سماعت رہے گا اور اس کے نتائج مستقبل کی سیاست پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

دہلی کی وزیراعلیٰ ریکھا گپتا نے احتجاج کے دوران کہا کہ گزشتہ 30 برسوں سے ملک کی نصف آبادی کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے حقوق سے متعلق بل بار بار پیش ہوتا ہے، لیکن کبھی اسے پھاڑ دیا جاتا ہے،

لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن اور حد بندی بل پر بحث کے دوران راہل گاندھی کے دائیں ہاتھ پر پٹی نظر آئی۔ اسپیکر اوم برلا کے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ چوٹ جاپانی مارشل آرٹ ’جو جِتسو‘ کھیلتے وقت لگی۔ جانیے بل گرنے پر راہل گاندھی نے کیا کہا؟

لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن سے متعلق آئینی ترمیمی بل کے مسترد ہونے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) نے اپوزیشن کے خلاف جارحانہ حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کر دیا ہے۔ حکمراں اتحاد نے اس فیصلے کو ”ناری شکتی“ کے لیے بڑا دھچکا قرار دیتے ہوئے اپوزیشن پر خواتین کے حقوق کو روکنے کا الزام عائد کیا ہے۔

بل کے مسترد ہونے کے فوراً بعد ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی اور حکمراں جماعت و اپوزیشن کے درمیان لفظی جنگ شروع ہو گئی۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اپوزیشن پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ خواتین کی توہین ہے اور اس کے سیاسی نتائج دور رس ہوں گے۔

بل کی منظوری کے لیے دو تہائی اکثریت یعنی 352 ووٹ درکار تھے، لیکن حکومت مطلوبہ اکثریت حاصل نہیں کر سکی اور بل مسترد ہو گیا۔

پرینکاگاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں خواتین ریزرویشن ملک کی خواتین کا حق ہے اور ایک دن یہ ضرور حقیقت بنے گا۔انہوں نے کہا کہ 2011 کی مردم شماری اور اس پر مبنی حد بندی سے جوڑ کر نریندر مودی کی خواتین کے مسیحا بننے کی کوشش آج ناکام ہو گئی۔

الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤبینچ نے کانگریس لیڈرراہل گاندھی کے خلاف دوہری شہریت کے الزام میں ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ کارروائی جسٹس سبھاش ودیارتھی کی ہدایت پرکی جائے گی۔ عدالت نے معاملے کی تحقیقات کے بعد مزید قانونی کارروائی کی بھی ہدایت کی ہے۔

راہل گاندھی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ وزیر اعظم  مودی کے لیے اس طرح کی زبان کا استعمال "غیر آئینی" اور "انتہائی افسوسناک" ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس شخصیت کو ملک کی عوام نے وزیر اعظم منتخب کیا ہو، اس کے لیے ایسے الفاظ کا استعمال پورے ملک کی توہین کے مترادف ہے۔

لوک سبھا میں حلقہ بندی اور خواتین ریزرویشن پر جمعہ کو جاری بحث کے دوران حزب اختلاف کے لیڈر اور کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے مرکز کی بی جے پی حکومت پر کئی سنگین الزامات عائد کیے۔