Bharat Express DD Free Dish

Rahul Gandhi

کیرالہ کے سابق وزیر اعلیٰ اور سی پی آئی (ایم) کے سینئر  لیڈرپنارائی وجین کے نام سے منسوب ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’راہل گاندھی قومی سطح کے لیڈر ہیں، لیکن ان میں اتنی سیاسی سمجھ بھی نہیں جتنی کانگریس کے ایک عام مقامی کارکن میں ہوتی ہے۔

دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں ہونے والے اس اجلاس میں کانگریس صدر ملّیکارجن کھڑگے، لوک سبھا میں قائد حزبِ اختلاف راہل گاندھی، ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی، پارٹی کے جنرل سیکریٹری ابھیشیک بنرجی، سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو، شیو سینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے اور دیگر اپوزیشن لیڈر شریک ہوں گے۔

جیسے جیسے ملک میں گرمی کی شدت بڑھ رہی ہے، ویسے ویسے قومی دارالحکومت نئی دہلی کی سیاسی سرگرمیاں بھی تیز ہوتی جا رہی ہیں۔ سیاسی حلقوں کی نظریں آنے والی اہم حکمتِ عملی میٹنگز پر مرکوز ہیں۔ اسی سلسلے میں 8 جون کو کانسٹی ٹیوشن کلب، نئی دہلی میں ہونے والی انڈیا بلاک کی …

تقریب میں ملیکارجن کھڑگے، راہل گاندھی، کے سی وینوگوپال اور رندیپ سنگھ سرجے والا سمیت کانگریس کے کئی سینئر لیڈران کی شرکت متوقع ہے۔ اس تقریب میں مختلف ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ، نائب وزرائے اعلیٰ، پردیش کانگریس کمیٹیوں کے صدور، ارکانِ پارلیمان اور پارٹی کے دیگر سینئر لیڈران بھی شرکت کریں گے۔

طالب علم کے مطابق اس نے یہ معاملہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اٹھایا، جہاں اسے کافی لوگوں کی حمایت حاصل ہوئی۔ تاہم جب اس کے حق میں بڑی تعداد میں لوگ سامنے آئے تو بعض حلقوں نے انہیں ’ڈیپ اسٹیٹ ایجنٹ‘ اور ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے والا قرار دینا شروع کر دیا۔

این ٹی اے نے اپنے بیان میں کہا کہ صبح کی شفٹ میں شامل تمام امیدواروں کو پورا امتحانی وقت دیا گیا۔ ادارے نے طلبہ اور والدین کو پیش آنے والی پریشانی پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔مدد اور رہنمائی کے لیے این ٹی اے نے ہیلپ لائن نمبر 91-11-40759000 اور ای میل [email protected] جاری کی ہے، تاکہ طلبہ اپنی شکایات اور سوالات درج کرا سکیں۔

دہلی پہنچنے کے بعد سدارمیا نے کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے سے بھی ملاقات کی۔ اس ملاقات کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس میں کھڑگے سدارمیا کے کندھے پر ہاتھ رکھے نظر آ رہے ہیں۔ادھر ریاست میں نئی حکومت کی تشکیل کے حوالے سے تین نائب وزرائے اعلیٰ بنانے کی قیاس آرائیاں بھی جاری ہیں۔

کانگریس لیڈر کے سی وینوگوپال نے عوام کو عید کی مبارکباد دیتے ہوئے محبت اور بھائی چارے کی خواہش ظاہر کی۔ انہوں نے ایکس پوسٹ میں لکھا کہ عیدالاضحیٰ کے مقدس موقع پر آپ سب کو دلی مبارکباد۔

ڈی کے شیوکمار کے حامیوں نے انہیں آئندہ وزیر اعلیٰ قرار دیتے ہوئے پوسٹرز لگانا اور سوشل میڈیا پر مبارکبادی پیغامات شیئر کرنا شروع کر دیے ہیں۔ حالانکہ، کانگریس پارٹی کی جانب سے اب تک قیادت کی تبدیلی کے حوالے سے کوئی دففتری اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

آچاریہ پرمود کرشنم نے کہا کہ سال 2014 کا لوک سبھا انتخاب صرف ایک سیاسی تبدیلی نہیں بلکہ ملک کی سمت بدلنے والا فیصلہ ثابت ہوا۔ ان کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس وقت نریندر مودی کو وزیر اعظم کے چہرے کے طور پر پیش کیا تھا اور عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ انہیں قبول کیا۔