Bharat Express DD Free Dish

Rahul Gandhi

پرینکا گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ غازی پور میں ایک لڑکی کے قتل کے معاملے میں پہلے ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی گئی، پھر متاثرہ خاندان کو دھمکیاں دی گئیں اور بااثر افراد نے بدامنی پھیلائی،

سیاسی مبصرین کے مطابق کانگریس کی اس نئی حکمتِ عملی کا مقصد بی جے پی کو مرکزی ہدف بنانا ہے، جبکہ ترنمول کانگریس پر نسبتاً نرم مؤقف اختیار کیا گیا ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈر راہل گاندھی نے بھی اپنی تقاریر میں اسی حکمت عملی کو اپنایا، جہاں ان کے بیانات کا بڑا حصہ بی جے پی کے خلاف رہا، جبکہ ترنمول کانگریس پر محض رسمی تنقید کی گئی۔

یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب کانگریس صدر کھڑگے نے تمل ناڈو میں ایک انتخابی تقریر کے دوران مودی کے خلاف سخت الفاظ استعمال کیے، جس پر بی جے پی نے سخت اعتراض کرتے ہوئے معافی کا مطالبہ کیا اور معاملہ الیکشن کمیشن تک پہنچا دیا۔

بیان پر بڑھتے تنازعہ کے بعد کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد وزیر اعظم کو دہشت گرد کہنا نہیں تھا بلکہ وہ یہ کہنا چاہتے تھے کہ وزیر اعظم سیاسی جماعتوں اور اپوزیشن لیڈروں کو خوفزدہ کرتے ہیں۔

لوک سبھا میں اس آئینی ترمیمی بل کے پاس نہ ہو پانے کے بعد کانگریس نے اب جوابی حکمت عملی تیار کر لی ہے اور ملک گیر سطح پر اس مسئلے کو عوام تک لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کانگریس نے اعلان کیا ہے کہ وہ 21 اپریل کو ملک کے 29 بڑے شہروں میں بیک وقت پریس کانفرنس کرے گی، جس میں پارٹی کے سرکردہ رہنما عوام کے سامنے اپنا موقف پیش کریں گے۔

راہل گاندھی نے مزید کہا کہ بی جے پی ایسی حکومت چاہتی ہے جو اس کے اشاروں پر چلے، لیکن تمل ناڈو کے عوام ایسا کبھی نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا ’’چاہے وہ کچھ بھی خواب دیکھیں، وہ نہ تمل ناڈو کے عوام کو کنٹرول کر سکتے ہیں اور نہ ہی یہاں کی حکومت کو۔‘‘

ملیکارجن کھڑگے اور جے رام رمیش نے خواتین ریزرویشن بل پر حکومت کو گھیر لیا۔ جانیے کیوں کانگریس نے وزیر اعظم کے خطاب کو ’بحرانی تقریر‘ قرار دیا اور اصل تنازع کیا ہے؟

راہل گاندھی نے مرکز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’پارلیمنٹ میں جو خواتین بل پیش کیا گیا، اس کا مقصد دراصل اسے پاس کرانا نہیں تھا بلکہ اس کے ذریعے حلقہ بندی بل کو خاموشی سے منظور کروانا تھا۔ وہ ہندوستان کے انتخابی نظام کو تبدیل کرنا چاہتے تھے۔‘‘

وزیر اعظم مودی نے جذباتی انداز میں کہا کہ انہوں نے خود تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی تھی کہ وہ اس بل کی حمایت کریں۔ ان کے مطابق انہوں نے یہاں تک کہا تھا کہ اگر کوئی جماعت اس کا کریڈٹ لینا چاہتی ہے تو وہ لے سکتی ہے،

وزیر اعظم  مودی نے مزید کہا کہ حکومت کے لیے ہمیشہ قومی مفاد سب سے اوپر رہا ہے، لیکن کچھ سیاسی جماعتوں کے لیے جماعتی مفاد قومی مفاد سے بڑا ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ خواتین ریزرویشن بل جیسے اہم معاملے پر بھی سیاست کی گئی۔