Bharat Express DD Free Dish

Rahul Gandhi

راہل گاندھی کوالہ آباد ہائی کورٹ سے بڑی راحت ملی ہے۔ ہائی کورٹ نے ان کے مبینہ ملک مخالف بیان کے الزام میں ایف آئی آردرج کرنے کا مطالبہ کرنے والی عرضی خارج کردی ہے۔ یہ تنازعہ 15 جنوری 2025 کوراہل گاندھی کے ذریعہ دیئے گئے ایک بیان سے شروع ہوا تھا۔

راہل گاندھی نے اپنے خطاب میں بی جے پی اور آر ایس ایس پر الزام لگایا تھا کہ وہ ملک کے اداروں پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ کانگریس آئین اور ملک کی بنیادی روح کے تحفظ کی جنگ لڑ رہی ہے۔

دہلی یونیورسٹی کے گارگی کالج میں راہل گاندھی کے سوال ’سب سے رسکی کام کیا ہے؟‘ پر ایک طالبہ نے مزاحیہ جواب دیا، جس کے بعد پورا ہال قہقہوں سے گونج اٹھا۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔

کانگریس لیڈر نے خواتین کے تحفظ کے معاملے پر بھی بی جے پی اور ترنمول کانگریس دونوں کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دونوں جماعتیں اپنے اپنے علاقوں میں ملزمان کو تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے آر جی کر میڈیکل کالج کے مبینہ ریپ اور قتل کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے معاملات میں جوابدہی کا فقدان ہے اور حکومتیں مجرموں کے خلاف سخت کارروائی نہیں کرتیں۔

پرینکا گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ غازی پور میں ایک لڑکی کے قتل کے معاملے میں پہلے ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی گئی، پھر متاثرہ خاندان کو دھمکیاں دی گئیں اور بااثر افراد نے بدامنی پھیلائی،

سیاسی مبصرین کے مطابق کانگریس کی اس نئی حکمتِ عملی کا مقصد بی جے پی کو مرکزی ہدف بنانا ہے، جبکہ ترنمول کانگریس پر نسبتاً نرم مؤقف اختیار کیا گیا ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈر راہل گاندھی نے بھی اپنی تقاریر میں اسی حکمت عملی کو اپنایا، جہاں ان کے بیانات کا بڑا حصہ بی جے پی کے خلاف رہا، جبکہ ترنمول کانگریس پر محض رسمی تنقید کی گئی۔

یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب کانگریس صدر کھڑگے نے تمل ناڈو میں ایک انتخابی تقریر کے دوران مودی کے خلاف سخت الفاظ استعمال کیے، جس پر بی جے پی نے سخت اعتراض کرتے ہوئے معافی کا مطالبہ کیا اور معاملہ الیکشن کمیشن تک پہنچا دیا۔

بیان پر بڑھتے تنازعہ کے بعد کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد وزیر اعظم کو دہشت گرد کہنا نہیں تھا بلکہ وہ یہ کہنا چاہتے تھے کہ وزیر اعظم سیاسی جماعتوں اور اپوزیشن لیڈروں کو خوفزدہ کرتے ہیں۔

لوک سبھا میں اس آئینی ترمیمی بل کے پاس نہ ہو پانے کے بعد کانگریس نے اب جوابی حکمت عملی تیار کر لی ہے اور ملک گیر سطح پر اس مسئلے کو عوام تک لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کانگریس نے اعلان کیا ہے کہ وہ 21 اپریل کو ملک کے 29 بڑے شہروں میں بیک وقت پریس کانفرنس کرے گی، جس میں پارٹی کے سرکردہ رہنما عوام کے سامنے اپنا موقف پیش کریں گے۔

راہل گاندھی نے مزید کہا کہ بی جے پی ایسی حکومت چاہتی ہے جو اس کے اشاروں پر چلے، لیکن تمل ناڈو کے عوام ایسا کبھی نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا ’’چاہے وہ کچھ بھی خواب دیکھیں، وہ نہ تمل ناڈو کے عوام کو کنٹرول کر سکتے ہیں اور نہ ہی یہاں کی حکومت کو۔‘‘