Bharat Express DD Free Dish

Rahul Gandhi

ملیکارجن کھڑگے اور جے رام رمیش نے خواتین ریزرویشن بل پر حکومت کو گھیر لیا۔ جانیے کیوں کانگریس نے وزیر اعظم کے خطاب کو ’بحرانی تقریر‘ قرار دیا اور اصل تنازع کیا ہے؟

راہل گاندھی نے مرکز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’پارلیمنٹ میں جو خواتین بل پیش کیا گیا، اس کا مقصد دراصل اسے پاس کرانا نہیں تھا بلکہ اس کے ذریعے حلقہ بندی بل کو خاموشی سے منظور کروانا تھا۔ وہ ہندوستان کے انتخابی نظام کو تبدیل کرنا چاہتے تھے۔‘‘

وزیر اعظم مودی نے جذباتی انداز میں کہا کہ انہوں نے خود تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی تھی کہ وہ اس بل کی حمایت کریں۔ ان کے مطابق انہوں نے یہاں تک کہا تھا کہ اگر کوئی جماعت اس کا کریڈٹ لینا چاہتی ہے تو وہ لے سکتی ہے،

وزیر اعظم  مودی نے مزید کہا کہ حکومت کے لیے ہمیشہ قومی مفاد سب سے اوپر رہا ہے، لیکن کچھ سیاسی جماعتوں کے لیے جماعتی مفاد قومی مفاد سے بڑا ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ خواتین ریزرویشن بل جیسے اہم معاملے پر بھی سیاست کی گئی۔

ایک طرف عدالت میں اس کی سماعت جاری ہے، تو دوسری جانب سیاسی حلقوں میں بھی اس پر بحث تیز ہو گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق عدالت کا حالیہ فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عدالتی عمل میں فریقین کو مکمل موقع دینا بنیادی اصول ہے۔ حتمی فیصلہ آنے تک یہ معاملہ زیر سماعت رہے گا اور اس کے نتائج مستقبل کی سیاست پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

دہلی کی وزیراعلیٰ ریکھا گپتا نے احتجاج کے دوران کہا کہ گزشتہ 30 برسوں سے ملک کی نصف آبادی کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے حقوق سے متعلق بل بار بار پیش ہوتا ہے، لیکن کبھی اسے پھاڑ دیا جاتا ہے،

لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن اور حد بندی بل پر بحث کے دوران راہل گاندھی کے دائیں ہاتھ پر پٹی نظر آئی۔ اسپیکر اوم برلا کے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ چوٹ جاپانی مارشل آرٹ ’جو جِتسو‘ کھیلتے وقت لگی۔ جانیے بل گرنے پر راہل گاندھی نے کیا کہا؟

لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن سے متعلق آئینی ترمیمی بل کے مسترد ہونے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) نے اپوزیشن کے خلاف جارحانہ حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کر دیا ہے۔ حکمراں اتحاد نے اس فیصلے کو ”ناری شکتی“ کے لیے بڑا دھچکا قرار دیتے ہوئے اپوزیشن پر خواتین کے حقوق کو روکنے کا الزام عائد کیا ہے۔

بل کے مسترد ہونے کے فوراً بعد ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی اور حکمراں جماعت و اپوزیشن کے درمیان لفظی جنگ شروع ہو گئی۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اپوزیشن پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ خواتین کی توہین ہے اور اس کے سیاسی نتائج دور رس ہوں گے۔

بل کی منظوری کے لیے دو تہائی اکثریت یعنی 352 ووٹ درکار تھے، لیکن حکومت مطلوبہ اکثریت حاصل نہیں کر سکی اور بل مسترد ہو گیا۔