Bharat Express DD Free Dish

Rahul Gandhi

طویل بحث کے بعد کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے بدھ کے روزلوک سبھا میں تقریرکی۔ انہوں نے ہند-امریکہ ٹریڈ ڈیل (تجارتی معاہدہ) پربات کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ہندوستان کے اعداد وشمار کی نگرانی کررہا ہے، ڈالرکوچیلنج کیا جا رہا ہے اورامریکہ کے غلبہ کوچیلنج کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے ایوان سے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کوبھی مخاطب کیا۔

لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈرراہل گاندھی کو نشانہ بناتے ہوئے مرکزی پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا، ”میں انہیں کچھ نہیں سکھا سکتا۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ وہ کس دنیا میں رہتے ہیں۔ کون سا نظریہ ان کے کاموں کوچلاتا ہے؟“

سابق بھارتی آرمی چیف جنرل منوج مکند نرونے نے اپنی متنازع یادداشت ’’فور اسٹارز آف ڈیسٹنی‘‘ سے متعلق جاری بحث کے دوران پہلی بار عوامی طور پر ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر محض سات الفاظ میں کتاب کی موجودہ حیثیت واضح کی اور ساتھ ہی اس کے ناشر پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا کے باضابطہ بیان کو بھی ری پوسٹ کیا۔

سابق بھارتی آرمی چیف جنرل منوج مکند نرونے کی مجوزہ سوانح عمری ’’فور اسٹارز آف ڈیسٹنی‘‘ کو لے کر جاری بحث و مباحثے کے درمیان پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا (پی آر ایچ آئی) نے ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے کتاب کی موجودہ حیثیت واضح کر دی ہے۔ پبلشنگ ہاؤس نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ یہ کتاب نہ تو شائع کی گئی ہے اور نہ ہی کسی بھی شکل میں تقسیم یا فروخت کی گئی ہے اور اس کے کسی بھی حصے کی غیر مجاز گردش قانوناً جرم ہے۔

راہل گاندھی کے دستخط نہ کرنے کے معاملے پر نیوز ایجنسی اے این آئی نے کانگریس ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ پارلیمانی جمہوریت میں قائدِ حزبِ اختلاف کا اسپیکر کو عہدے سے ہٹانے کے نوٹس پر دستخط کرنا مناسب نہیں سمجھا گیا۔ اسی وجہ سے راہل گاندھی نے اس نوٹس پر دستخط نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

راہل گاندھی نے کہا کہ پینگوئن کا دعویٰ ہے کہ کتاب شائع نہیں ہوئی، لیکن یہ کتاب ایمیزون پر دستیاب دکھائی دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل نروَنے نے خود 2023 میں ٹوئٹ کر کے لوگوں سے کتاب خریدنے کی اپیل کی تھی۔

لوک سبھا میں گزشتہ ایک ہفتے سے جاری تعطل بدستور برقرار ہے اور بجٹ پر بحث شروع نہیں ہو پا رہی ہے۔ ایوان کی کارروائی بار بار ملتوی ہو رہی ہے، جس سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی مزید گہری ہو گئی ہے۔

سابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل منوج مکند نرونے کی مجوزہ کتاب ریلیز سے قبل ہی شدید تنازع کا شکار ہو گئی ہے۔ دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے کتاب کی پری پرنٹ کاپی مبینہ طور پر لیک ہونے کے معاملے میں ایف آئی آر درج کر لی ہے۔

لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی کو بولنے کی اجازت نہ ملنے پر اپوزیشن نے احتجاج کیا اور اب اسپیکر اوم برلا کے خلاف بڑا قدم اٹھانے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق اپوزیشن اتحاد لوک سبھا اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے پر غور کر رہا ہے، جس سے آئینی تصادم کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔

پارلیمنٹ کے مکر دوار پر کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے مرکزی وزیر روینیت سنگھ بِٹّو کو ’غدار‘ کہا۔ اس پر بِٹّو نے سخت ردِعمل دیتے ہوئے راہل گاندھی کو ’ملک کا دشمن‘ قرار دیا اور ان سے ہاتھ ملانے سے بھی انکار کر دیا۔ اس واقعے کے بعد پارلیمنٹ کے احاطے میں خاصی کشیدگی دیکھنے کو ملی۔ پوری خبر پڑھیں۔