Bharat Express DD Free Dish

Rahul Gandhi

پڈوچیری میں اسمبلی انتخابات 9 اپریل کو ہوں گے جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ امت شاہ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ایک بار پھر این ڈی اے حکومت کو منتخب کریں تاکہ ترقیاتی کاموں کو مزید آگے بڑھایا جا سکے۔

انڈین نیشنل کانگریس، ترنمول کانگریس اور لیفٹ فرنٹ کے درمیان سب سے واضح ٹکراؤ مغربی بنگال میں دیکھنے کو مل رہا ہے، جہاں 294 نشستوں پر ہونے والے اسمبلی انتخابات میں تینوں جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف میدان میں ہیں۔ انتخابی جلسوں میں ایک دوسرے پر سخت سیاسی حملے کیے جا رہے ہیں، جس سے اتحاد کی کمزوریاں نمایاں ہو رہی ہیں۔

2018 کے احتجاج کے دوران درج مقدمات کو ختم کرنے اور متاثرہ نوجوانوں کو راحت دینے کی اپیل۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان تمام مقدمات کو یا تو ختم کیا جائے یا واپس لیا جائے تاکہ ان نوجوانوں کو طویل قانونی کارروائیوں کے بوجھ سے نجات مل سکے اور وہ اپنی زندگی کو بہتر طریقے سے آگے بڑھا سکیں۔

آسام کی تمام 126 نشستوں پر ووٹنگ ایک ہی مرحلے میں 9 اپریل کو ہوگی، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ آسام میں اس بار حکمراں بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے اور کانگریس کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔

آنند شرما نے کہا کہ دنیا شاید تاریخ کے سب سے بڑے توانائی بحرانوں میں سے ایک کی طرف بڑھ رہی ہے اور یہ وقت عالمی سفارتکاری کے امتحان کا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کے خلیجی ممالک کے ساتھ طویل مدتی تعلقات ہیں،

اپنے خطاب میں راہل گاندھی نے کہا کہ ان کے خلاف 36 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی سیاسی مخالفین کو دبانے اور ڈرانے کی کوشش کرتی ہے، لیکن ریاستی حکومت کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ اختلاف رائے کو دبانے کی کوشش جمہوریت کے لیے خطرناک ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے لوک سبھا میں بائیں بازو کی انتہاپسندی کے خاتمے سے متعلق جاری بحث کے دوران کہا کہ ملک میں 1970 سے 2004 کے درمیان نکسل واد نے تیزی سے جڑیں پکڑیں اور اس عرصے میں تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

امت شاہ نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا میں کئی نکسلی فرنٹ تنظیموں نے حصہ لیا تھا، جس کا ریکارڈ ان کے پاس موجود ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2010 میں اڈیشہ میں راہل گاندھی نے لاڈو شیکوکا کے ساتھ اسٹیج شیئر کیا تھا، جہاں مبینہ طور پر اشتعال انگیز تقریر کی گئی اور راہل گاندھی کو مالا پہنائی گئی۔

کانگریس رہنما نے ایل ڈی ایف حکومت کو ’’کارپوریٹ فنڈڈ حکومت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے اپنی بائیں بازو کی نظریاتی شناخت کھو دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح ڈونلڈ ٹرمپ کے اثرات کا ذکر کیا جاتا ہے، اسی طرح نریندر مودی کیرالہ کے وزیراعلیٰ کو کنٹرول کرتے ہیں، جبکہ بدعنوانی بھی ایک بڑا عنصر ہے۔

اکھلیش یادو نے طنزیہ انداز میں مزید کہا، "ڈریس کوڈ کیا نکّر پر لاگو کریں گے؟ آپ نے خود نکّر چھوڑ دی، اب آپ بھی پینٹ پہن رہے ہیں۔ اگر تمام بی جے پی رہنما پرانی نکّر پہننے کو تیار ہیں تو ہم بھی تیار ہیں۔"