Bharat Express DD Free Dish

Pakistan

22 اپریل کو جموں و کشمیر کے پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کا ذکر کرتے ہوئے، نشی کانت دوبے نے کہا کہ ’پاکستانی فوج‘ نے ہندوستانیوں کو، خاص طور پر ہندوؤں کو چن چن کر مارا ہے۔ مودی حکومت اس حملے کا بدلہ ہر حال میں لے گی۔

مودی حکومت پاکستان کے خلاف سخت قدم اٹھا رہی ہے اور اپوزیشن پارٹیوں نے بھی حکومت کو سخت قدم اٹھانے کی بات کہی ہے۔راہل گاندھی سمیت اپوزیشن پارٹیوں کے تمام لیڈران نے مرکزی حکومت کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا ہے اور حکومت کے فیصلے کے  ساتھ کھڑے رہنے کی بات کہی ہے۔

پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد دی ریزسٹنس فرنٹ (ٹی آرایف) نے شروعات میں ذمہ داری لی تھی، لیکن ہندوستانی حکومت کے سخت اقدامات کے بعد ٹی آرایف نے اپنا بیان بدل دیا ہے۔ ٹی آرایف نے اپنے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ہیک ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے حملے سے انکارکیا ہے۔

کشمیرکے پہلگام دہشت گردانہ حملے پر پاکستان نے کہا ہے کہ ہندوستان اگرکوئی ایڈوینچرکرنا چاہتا ہے تو وہ اس کے لئے بھی تیارہے۔ ایسا ہی انہوں نے گزشتہ بار بھی کیا تھا۔

یہ واقعہ بدھ کو اس وقت پیش آیا جب 182 ویں بی ایس ایف بٹالین کے کانسٹیبل پی کے سنگھ ہند-پاک سرحد کے قریب کھیتوں کے پاس ڈیوٹی پر تھے۔

22 اپریل کو جموں و کشمیر کے پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستان نے پاکستان کی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے سخت فیصلے لیے ہیں۔

جموں وکشمیرکے پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کے بعد فواد خان کی فلم ’عبیرگلال‘ کی ریلیز ڈیٹ ملتوی کردی گئی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق، پاکستانی اداکارکے خلاف بڑھتی ہوئی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے میکرس نے یہ فیصلہ لیا۔

پی ایم مودی نے کہا کہ میں صاف صاف کہنا چاہتا ہوں کہ جنہوں نے یہ حملہ کیا ہے، انہیں اتنی بڑی سزا ملے گی جس کا انہوں نے تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔ اب دہشت گردوں کی بچی ہوئی زمین بھی ختم کر دی جائے گی۔ دہشت گردی کے سرغناؤں کی کمر توڑ دی جائے گی اور ہر دہشت گرد کو سزا ضرور ملے گی۔

آمنہ بلوچ جمعرات کے روز ایف او سی کے بعد یونس اور خارجہ امور کے مشیر توحید حسین سے بھی ملاقات کر سکتی ہیں۔ ستمبر میں یونس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی تھی۔ اس دوران دونوں لیڈران نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کی تھا۔

جموں و کشمیر میں بھی زلزلہ محسوس کیا گیا اور لوگ خوف و دہشت میں گھروں سے باہر نکل گئے۔ لداخ میں کچھ مقامات پر زلزلے کے تیز جھٹکے محسوس کیے گئے، ریختر پیمانے پر اس کی شدت 5.2 بتائی گئی ہے۔