Bharat Express DD Free Dish

Operation Sindoor

پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد، ہندوستان نے’آپریشن سندور‘ شروع کیا اورپاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کوتباہ کر دیا، جس میں تقریباً 100 دہشت گرد مارے گئے۔ بی جے پی آپریشن سندھ کی کامیابی کا جشن منانے کے لئے 13 سے 23 مئی تک ملک گیر ترنگا یاترا منعقد کرے گی۔ یہ یاترا ’آپریشن سندور‘ کی کامیابی اور قومی یکجہتی کا پیغام دے گا۔

بھارتی فضائی کارروائیاں دہشت گردی کے خلاف بھارت کی نئی حکمت عملی کا اظہار، یہ کارروائیاں”نپی تلی، محدود اور غیر اشتعالی“ نوعیت کی تھیں۔

آپریشن میں دیسی آکاش سسٹم استعمال کیا گیا۔ پاکستان کا چینی نژاد میزائل پی ایل-15 مارگرایا گیا۔ پاکستان کی ڈرون لیزرگن کوبھی نشانہ بنایا گیا۔ اس کے ساتھ پاکستان کے نورخان ایئربیس کو بھی تباہ کردیا گیا۔

گزشتہ ماہ پہلگام دہشت گردانہ حملے کا بدلہ لینے کے لیے پاکستان کے خلاف ہندوستان کی فوجی کارروائی ’’آپریشن سندور‘‘ سے متاثر ہو کر اترپردیش میں 17 نوزائیدہ لڑکیوں کا نام ان کے والدین نے ’’سندور‘‘ رکھا ہے۔

کشیدگی کے بیچ پی ایم مودی آج رات 8 بجے قوم سےخطاب کریں گے۔ وزیراعظم نریندر مودی کا خطاب انتہائی اہم مانا جارہا ہے چونکہ پاکستان کے ساتھ جو تعلقات ہیں اس کے پیش نظر پی ایم مودی کا یہ خطاب کافی معنی خیز ہے۔

جنرل نروانے نے کہا کہ ان کی پہلی پسند سفارت کاری ہوگی۔ تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے اور اسے مسلح تصادم کی طرف نہیں جانا چاہیے۔ نروانے نے مزید کہاکہ قومی سلامتی میں ہم سب برابر کے اسٹیک ہولڈر ہیں۔

بھارت اس سے خوفزدہ نہیں ہوا، بلکہ اس نے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے چکلالہ، رفیقی، رحیم یار خان، اور سکھر کے اڈوں پر حملے کیے، جو اسلام آباد سمیت اہم مقامات ہیں۔

اس سے قبل اتوار کی شام بھارتی فوج کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم او) لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھئی نے ایک پریس بریفنگ میں بتایا کہ 'آپریشن سندور' کا بنیادی مقصد دہشت گردی کا خاتمہ تھا، جس میں بھارتی فوج کو شاندار کامیابی ملی۔

سمبت پاترا نے کہا کہ ہندوستانی مسلح افواج نے پاکستان اور پی او کے میں دہشت گردوں کے نو ٹھکانے تباہ کر دیئے۔ اس میں 100 سے زائد دہشت گرد مارے گئے۔

ڈی جی ایم او لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھئی نے کہا کہ جھڑپ میں 35-40 پاکستانی فوجی مارے گئے اور نئی دہلی نے اپنے اہداف حاصل کرلیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان نے دوبارہ  کچھ کرنے  کی ہمت کی تو اسے بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔