پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ بھارت نے پاکستان اور اس سے منسلک دہشت گرد تنظیموں کو ایسا سبق سکھایا ہے جو وہ ہمیشہ یاد رکھے گا۔ پاکستان کی اپیل کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کے حوالے سے معاہدہ طے پا گیا ہے۔ ادھر سوشل میڈیا پر صارفین کی بڑی تعداد نے پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعہ روکنے کے فیصلے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ایسے میں ہندوستان کے سابق آرمی چیف جنرل منوج مکند نروانے نے اس معاملے پر بڑی بات کہی ہے۔ جنرل نروانے نے کہا ہے کہ جنگ نہ تو رومانوی ہے اور نہ ہی کوئی فلمی۔اس لئے میری پہلی ترجیح سفارت کاری ہوتی۔
دراصل، سابق آرمی چیف جنرل منوج مکند نروانے پونے میں ایک پروگرام سے خطاب کر رہے تھے۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ اگر انہیں حکم ملا تو وہ جنگ کے لیے تیار ہوں گے تاہم ان کی پہلی ترجیح ہمیشہ سفارت کاری ہوگی۔ سابق آرمی چیف کا مزید کہنا تھا کہ جب توپ خانے کے گولے گرتے ہیں تو سرحد کے قریب رہنے والے لوگوں خصوصاً بچوں کو پناہ لینے کے لیے بھاگنا پڑتا ہے۔ اس سے ان کے دلوں میں گہرا درد رہتا ہے۔
جنرل نروانے کا مزید کہنا تھا کہ جنگ کوئی رومانوی چیز نہیں ہے، یہ آپ کی بالی ووڈ فلم نہیں ہے، یہ ایک سنجیدہ موضوع ہے، جنگ یا تشدد آخری آپشن ہونا چاہیے، ہمارے وزیر اعظم نے بھی کہا ہے کہ یہ جنگ کا دور نہیں ہے، اگر غیر معقول لوگ ہم پر جنگ مسلط کریں تو بھی ہمیں اس کا خیرمقدم نہیں کرنا چاہیے، پھر بھی لوگ پوچھ رہے ہیں کہ ہم نے پوری طاقت کے ساتھ جنگ کیوں نہیں کی، لیکن ایک فوج کے طور پر اگر مجھے حکم دیا جاتا ہے تو جنگ میں ضرور جاوں گا لیکن یہ میری پہلی پسندنہیں ہوگی۔
جنرل نروانے نے کہا کہ ان کی پہلی پسند سفارت کاری ہوگی۔ تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے اور اسے مسلح تصادم کی طرف نہیں جانا چاہیے۔ نروانے نے مزید کہاکہ قومی سلامتی میں ہم سب برابر کے اسٹیک ہولڈر ہیں۔ ہمیں نہ صرف دو ملکوں کے درمیان بلکہ اپنے، اپنے خاندانوں، ریاستوں، علاقوں اور برادریوں کے درمیان تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔نروانے نے کہا کہ تشدد کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


