Bharat Express DD Free Dish

Operation Sindoor

پاکستان میں جشن اور جیت کے دعوے سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ جیت کا دعویٰ کرنا پاکستان کی پرانی عادت ہے۔ 1971ء، 1975ء اور 1999ء کی کارگل جنگ میں بھی اس نے ایسا ہی کیاتھا۔

پہلگام میں قتل عام صرف معصوم جانوں پر حملہ نہیں تھا بلکہ یہ ہندوستان کے ضمیر پر حملہ تھا۔ اس کے جواب میں، ہندوستان نے انسداد دہشت گردی سے متعلق قواعد کار کو از سر نو مرتب کرنے کا فیصلہ کیا۔

بڑی پیش رفت یہ ہے کہ 13 مئی 2025 تک، پاکستان نے اپنی ایمرجنسی ایئر سٹرپس کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں کیونکہ بھارتی حملوں نے متعدد فوجی ایئر بیسز کو شدید نقصان پہنچایاہے۔

امیتابھ بچن نے لکھا، ’’اور، قابل احترام والد کے الفاظ گونج رہے ہیں... زور سے اور اسپشٹ... اور پرتی دھونی کے روپ میں... دیش کے ہر حصے سے... ہر کونے سے... دیش کے آکروشت اور سمرپت جوانوں... اٹھو اور آگے بڑھو... بنا کوئی آواز دیے... اگر بولنا ہی ہے... تو دشمن کے منہ پر تمھارے تھپڑ کی آواز سنائی دے۔‘‘

شہید کے اہل خانہ سے کی ملاقات، آپریشن سندور میں شہید ہوئے تھے محمد امتیاز، آرایس پورا سیکٹر میں تھی تعیناتی، شہید جوان کو کل ان کے آبائی گاؤں میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ محمد امتیاز کی اہلیہ نے ریاستی حکومت سے اپیل کی تھی کہ ان کے شوہر کے نام سے ایک اسپتال بنایا جائے، جہاں غریبوں کا مفت علاج ہو سکے۔

پی ایم مودی نے کہا کہ اب آپریشن سندور ہندوستان کا نیا معمول ہے،اس لئے اگر ہندوستان پر کوئی دہشت گردانہ  حملہ ہوا تو ہم خود جواب دیں گے۔ بھارت کسی قسم کی جوہری بلیک میلنگ برداشت نہیں کرے گا، ہم دہشت گردی اور دہشت گرد لیڈروں کو الگ سے نہیں دیکھیں گے ۔

آپریشن سندور کے دوران ہندوستانی بحریہ کے کیریئر بیٹل گروپ نے کثیر سطحی فضائی دفاعی نظام کے ذریعے دشمنوں کو کئی سو کلومیٹر دور سمندری حدود میں داخل ہونے سے روک دیا۔

آدم پور ایئر بیس ہندوستان کے اسٹریٹجک فضائی دفاعی مقامات میں سے ایک ہے، جو شمالی سرحدوں کے قریب واقع ہے۔ وزیر اعظم مودی نے یہاں فضائیہ کے پائلٹوں اور تکنیکی عملے کے ساتھ بات چیت کی۔

پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد بھارت نے آپریشن سندور شروع کر دیا ہے۔ تب سے اب تک سیکورٹی فورسز نے کئی دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے۔ شوپیاں میں انکاؤنٹر کی جگہ کو مکمل طور پر گھیرے میں لے لیا گیا ہے۔

پی ایم مودی نے کہا اگر ہندوستان پر کوئی دہشت گرد حملہ ہوتا ہے، ہم اپنے طریقے سے، اپنی شرائط پر جواب دیں گے۔ ہم ہر اس جگہ پر سخت کارروائی کریں گے، جہاں سے دہشت گردی کی جڑیں نکلتی ہیں۔۔