Bharat Express DD Free Dish

Operation Sindoor

امیتابھ بچن نے لکھا، ’’اور، قابل احترام والد کے الفاظ گونج رہے ہیں... زور سے اور اسپشٹ... اور پرتی دھونی کے روپ میں... دیش کے ہر حصے سے... ہر کونے سے... دیش کے آکروشت اور سمرپت جوانوں... اٹھو اور آگے بڑھو... بنا کوئی آواز دیے... اگر بولنا ہی ہے... تو دشمن کے منہ پر تمھارے تھپڑ کی آواز سنائی دے۔‘‘

شہید کے اہل خانہ سے کی ملاقات، آپریشن سندور میں شہید ہوئے تھے محمد امتیاز، آرایس پورا سیکٹر میں تھی تعیناتی، شہید جوان کو کل ان کے آبائی گاؤں میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ محمد امتیاز کی اہلیہ نے ریاستی حکومت سے اپیل کی تھی کہ ان کے شوہر کے نام سے ایک اسپتال بنایا جائے، جہاں غریبوں کا مفت علاج ہو سکے۔

پی ایم مودی نے کہا کہ اب آپریشن سندور ہندوستان کا نیا معمول ہے،اس لئے اگر ہندوستان پر کوئی دہشت گردانہ  حملہ ہوا تو ہم خود جواب دیں گے۔ بھارت کسی قسم کی جوہری بلیک میلنگ برداشت نہیں کرے گا، ہم دہشت گردی اور دہشت گرد لیڈروں کو الگ سے نہیں دیکھیں گے ۔

آپریشن سندور کے دوران ہندوستانی بحریہ کے کیریئر بیٹل گروپ نے کثیر سطحی فضائی دفاعی نظام کے ذریعے دشمنوں کو کئی سو کلومیٹر دور سمندری حدود میں داخل ہونے سے روک دیا۔

آدم پور ایئر بیس ہندوستان کے اسٹریٹجک فضائی دفاعی مقامات میں سے ایک ہے، جو شمالی سرحدوں کے قریب واقع ہے۔ وزیر اعظم مودی نے یہاں فضائیہ کے پائلٹوں اور تکنیکی عملے کے ساتھ بات چیت کی۔

پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد بھارت نے آپریشن سندور شروع کر دیا ہے۔ تب سے اب تک سیکورٹی فورسز نے کئی دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے۔ شوپیاں میں انکاؤنٹر کی جگہ کو مکمل طور پر گھیرے میں لے لیا گیا ہے۔

پی ایم مودی نے کہا اگر ہندوستان پر کوئی دہشت گرد حملہ ہوتا ہے، ہم اپنے طریقے سے، اپنی شرائط پر جواب دیں گے۔ ہم ہر اس جگہ پر سخت کارروائی کریں گے، جہاں سے دہشت گردی کی جڑیں نکلتی ہیں۔۔

پاکستانی فوج نے حملے میں متعدد شہریوں کی ہلاک ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ پاک فوج کے مطابق 'معرکہ حق' 22 اپریل سے 10 مئی تک جاری رہنے والے وسیع تنازع کو دیا گیا سرکاری نام ہے

پاکستان میں مساجد اور مدارس کی تباہی کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی فوج کی بات سننی چاہیے۔ پاکستان جو کہہ رہا ہے وہ قابل اعتبار نہیں ہے۔ پاکستان کا دوہرا کردار ہے۔

پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کافی بڑھ گئی تھی۔ امریکی مداخلت کے بعد دونوں ممالک نے جنگ بندی پر اتفاق کیا۔ اس حوالے سے ہندوستان اور پاکستان کے ڈی جی ایم او کے درمیان بات چیت ہوئی۔