Bharat Express DD Free Dish

Operation Sindoor

سیٹلائٹ تصاویر نے تصدیق کی ہے کہ ہندوستانی فضائیہ کے ان حملوں میں پاکستان کے کئی اہم فضائی اڈوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

آج شام ہندوستانی ڈائریکٹر جنرل آف ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم او) لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھئی نے ایئر مارشل اے کے بھارتی اور وائس ایڈمرل اے این پرمود کے ساتھ پریس بریفنگ کے دوران آپریشن سندور پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

محمد ادیب نے کہا کہ پڑوسی ملک کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ دہشت گردی کو فروغ دینا خطے میں قیام امن کے لئے سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کسی کا دشمن نہیں ہو سکتا لیکن اگر بھارت کے امن و امان کو چیلنج کیا جائے گا تو وہ خاموش بھی نہیں بیٹھ سکتا ہے ۔

ڈاکٹر جیتندر سنگھ نے کہاکہ وزیر اعظم نریندر مودی کے دور اقتدار کی آخری دہائی میں، ملک میں سائنس ٹیکنالوجی کی اختراع نے کافی ترقی کی ہے۔ آپ نے پچھلے تین چار دنوں میں جو ٹیکنالوجیز دیکھی ہیں، ان میں سے زیادہ تر 2014 کے بعد حاصل کی گئی ہیں۔

جموں و کشمیر پولیس کی ریاستی تحقیقاتی ایجنسی نے جنوبی کشمیر میں 20 مقامات پر چھاپے مار کر ایک سلیپر سیل ماڈیول کا پردہ فاش کیا ہے۔ اس دوران بھاری مقدار میں قابل اعتراض اشیاء برآمد ہوئیں۔ اس کے علاوہ کچھ مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جن سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق بھارت نے آپریشن سندور کے تحت دہشت گردوں کے کیمپوں پر حملے کے بعد پاکستان کو بھی آگاہ کیا تھا۔ یہ معلومات 7 مئی 2025 کی صبح ڈی جی ایم او کی سطح پر دی گئی۔

آپریشن سندورکے دوران بھارت نے 90 منٹ تک پاکستان کے بڑے ایئربیس پر  حملے کئے۔ ان حملوں نے پاکستان کے برتری کے دعوے کو خاک میں ملا دیا۔

گزشتہ ماہ22 اپریل کو جموں و کشمیر کے پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کے بعد، ہندوستان نے (6-7 مئی) کی درمیانی رات آپریشن سندور شروع کیاتھا، جس کے تحت پاکستان میں داخل ہو کر دہشت گردوں کے نو ٹھکانوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے راجیہ سبھا کے رکن کپل سبل نے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس اور آل پارٹی میٹنگ بلانے پر زور دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آج ہم کوئی تنقید نہیں کریں گے۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے بھی اپیل کی کہ جب تک حکومت انہیں یہ یقین دلاتی کہ پی ایم بھی اجلاس میں شرکت کریں گے تب تک وہ اجلاس میں شریک نہ ہوں۔

رنویر نے پاکستانیوں سے معافی مانگتے ہوئے ایک پوسٹ شیئر کی تھی جو یوزر کو بالکل پسند نہیں آئی۔ 10 مئی کو  رنویر نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر کئی پوسٹس شیئر کی،