سائنس اور ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اتوار کو کہا کہ پچھلے تین چار دنوں میں سبھی نے ہندوستانی ٹیکنالوجی کی طاقت دیکھی ہے اور ملک اس میدان میں تیزی سے خود انحصاری کی طرف بڑھ رہا ہے۔نیشنل ٹیکنالوجی ڈے کے موقع پر نیوز ایجنسی آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اس دن کو پوکھران ایٹم بم ٹیسٹ کی کامیابی کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے 11 مئی کو ‘نیشنل ٹیکنالوجی ڈے’ کے طور پر قرار دیا تھا۔
انہوں نے مزید کہاکہ وزیر اعظم نریندر مودی کے دور اقتدار کی آخری دہائی میں، ملک میں سائنس ٹیکنالوجی کی اختراع نے کافی ترقی کی ہے۔ آپ نے پچھلے تین چار دنوں میں جو ٹیکنالوجیز دیکھی ہیں، ان میں سے زیادہ تر 2014 کے بعد حاصل کی گئی ہیں۔مرکزی وزیر نے مزید کہاکہ اسی لیے میرا ماننا ہے کہ 27 سال قبل قومی ٹیکنالوجی ڈے کے آغاز کے وقت جو تصور پیش کیا گیا تھا، وہ گزشتہ دہائی میں وزیر اعظم مودی نے درست ثابت کیا ہے۔مرکزی وزیر نے مزید کہا کہ حکومت نے ٹیکنالوجی اور سائنسی اداروں کے سیکورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔اس کے ذریعے ہمارا مقصد سائنسی ماہرین اور ان اداروں میں کام کرنے والے دیگر افراد کو یقین دلانا ہے کہ ہم ان کے ساتھ رابطے میں ہیں اور ان کی اچھی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔
مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر، پنجاب، چندی گڑھ، راجستھان اور شمال مغربی گجرات کے سرحدی علاقوں میں واقع تکنیکی اور سائنسی تنصیبات کی سیکورٹی کو اپ گریڈ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس کے لیے مرکزی وزیر جتیندر سنگھ نے سینئر حکام اور سائنسی اور تکنیکی محکموں کے سربراہوں کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی مشترکہ میٹنگ بلائی تھی۔میٹنگ کا فوکس خاص طور پر جموں و کشمیر، پنجاب، لداخ اور ہندوستان کے شمال مغربی خطے کے سرحدی اور حساس علاقوں میں تحقیق اور سائنسی سہولیات کی حفاظتی تیاریوں کا جائزہ لینے پر تھا۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


