Bharat Express DD Free Dish

Indian technology

بھارت میں 5 جی ٹیکنالوجی کی مقبولیت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اندازہ ہے کہ سال 2031 کے اختتام تک ملک میں 5 جی سبسکرپشن کا اعداد و شمار 1 ارب سے آگے نکل جائے گا۔ یہ انکشاف عالمی ٹیلی کام کمپنی ایرکسن کی جانب سے جاری کی گئی ‘ایرکسن موبیلیٹی رپورٹ’ کے نومبر 2025 ایڈیشن میں کیا گیا ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی نے پیر کو بھارت منڈپم میں منعقدہ ’’ابھرتی ہوئی سائنس و ٹیکنالوجی اختراع کانفرنس‘‘ کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ایک لاکھ کروڑ روپے کے آر ڈی آئی اسکیم فنڈ کا بھی آغاز کیا، جس کا مقصد بھارت کی سائنسی و تکنیکی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

یہ منصوبہ صرف ایک سائنسی کامیابی نہیں بلکہ بھارت کے اس عزم کا اظہار ہے کہ وہ جدید تحقیق کو مقامی ضروریات سے ہم آہنگ کر کے ایک خود کفیل اور محفوظ مستقبل کی طرف بڑھ رہا ہے۔

بھارت دنیا میں ساتواں بڑا کافی پیدا کرنے والا ملک ہے اور پانچواں بڑا برآمد کنندہ۔ ملک میں پیدا ہونے والی دو تہائی کافی برآمد کر دی جاتی ہے۔فصل سال 2025-2026 (اکتوبر سے آغاز) کے لیے کافی بورڈ نے ابتدائی تخمینہ 4.03 لاکھ ٹن لگایا ہے، جو پچھلے سال کے 3.63 لاکھ ٹن کے مقابلے میں 11 فیصد زیادہ ہے۔

وزیر اعظم کے مطابق ڈیجیٹل اختراعات نے عام شہریوں کو حکومتی خدمات تک براہِ راست رسائی دی ہے، بدعنوانی میں کمی آئی ہے اور حکومت اور عوام کے درمیان فاصلہ کم ہوا ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی انجینئرز ڈے کی مبارکباد دی۔ انہوں نے 'ایکس' پر لکھا: تمام انجینئروں کو انجینئرز ڈے کی دلی مبارکباد۔ آپ کی دوراندیشی، جدت طرازی اور لگن بھارت کو تکنیکی ترقی کی بلند ترین سطحوں تک تیزی سے لے جا رہی ہے۔

Q2 2025 میں مہاراشٹرا نے سب سے زیادہ، 30 فیصد سے زائد، اوپن ایکسیس سولر تنصیبات کا حصہ حاصل کیا۔جون 2025 تک بھارت کی مجموعی اوپن ایکسیس سولر صلاحیت 24.6 گیگا واٹ تک پہنچ چکی ہے۔

اس سے پہلے، پوسٹ آفسز میں صرف انڈیا پوسٹ پیمنٹس بینک اکاؤنٹس کے ذریعے یو پی آئی  UPI ٹرانزیکشنز کی اجازت تھی، وہ بھی تکنیکی مسائل کی وجہ سے محدود انداز میں۔

یہ منصوبہ اڈیشہ اور مشرقی بھارت کی دیگر ریاستوں کے لیے خاص فائدہ مند ہوگا ،کیونکہ یہ بھاری کمرشل ٹریفک کو کٹک، بھونیشور اور خوردہ شہروں سے ہٹا دے گا۔ اس سے مال برداری کی کارکردگی میں بہتری آئے گی،

یہ روایتی اور غیر روایتی خطرات سے نمٹنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ آئی این ایس ادے گیری کو صرف 37 ماہ میں سروس کے لیے بحریہ کے حوالے کیا گیا ہے۔