یونین کابینہ نے اڈیشہ میں چھ لین پر مشتمل ایک کنٹرولڈ ایکسیس دارالحکومت ریجن رنگ روڈ (بھونیشور بائی پاس) کی تعمیر کی منظوری دے دی ہے، جو ہائبرڈ اینویٹی موڈ (HAM) کے تحت 8,307.74 کروڑ روپے کی مجموعی لاگت سے تعمیر کیا جائے گا، یہ بات منگل کو اطلاعات و نشریات کے وزیر اشونی ویشنو نے بتائی۔
فی الحال ریمیشور اور ٹانگی کے درمیان موجودہ نیشنل ہائی وے پر ٹریفک کی بھاری مقدار کے باعث شدید بھیڑ کا سامنا ہے، کیونکہ یہ راستہ خوردہ، بھونیشور اور کٹک جیسے شہری علاقوں سے گزرتا ہے۔ ان مسائل کے حل کے لیے 110 کلومیٹر طویل اس منصوبے کو ایک نئی چھ لین کنٹرولڈ ایکسیس گرین فیلڈ ہائی وے کے طور پر تیار کرنے کی تجویز دی گئی ہے، ایک سرکاری بیان میں کہا گیا۔
“یہ منصوبہ اڈیشہ اور مشرقی بھارت کی دیگر ریاستوں کے لیے خاص فائدہ مند ہوگا ،کیونکہ یہ بھاری کمرشل ٹریفک کو کٹک، بھونیشور اور خوردہ شہروں سے ہٹا دے گا۔ اس سے مال برداری کی کارکردگی میں بہتری آئے گی، لاجسٹکس لاگت میں کمی ہوگی اور خطے میں سماجی و اقتصادی ترقی کو فروغ ملے گا،” بیان میں کہا گیا۔
منصوبے کی لائن تین اہم نیشنل ہائی ویز (NH-55, NH-57, NH-655) اور ایک اسٹیٹ ہائی وے (SH-65) سے جڑتی ہے، جو اڈیشہ بھر میں اہم اقتصادی، سماجی اور لاجسٹکس مراکز سے مربوط کنیکٹیویٹی فراہم کرے گی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ اپگریڈ شدہ کاریڈور ملٹی موڈل انٹیگریشن کو فروغ دے گا، کیونکہ یہ ایک بڑے ریلوے اسٹیشن، ایئرپورٹ، مجوزہ ملٹی موڈل لاجسٹکس پارک (MMLP) اور دو اہم بندرگاہوں سے جُڑے گا، جس سے سامان اور مسافروں کی تیز نقل و حمل ممکن ہوگی۔
تکمیل کے بعد یہ بائی پاس خطے کی معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرے گا، اہم مذہبی و اقتصادی مراکز کے درمیان روابط کو مضبوط کرے گا اور تجارت و صنعتی ترقی کے لیے نئے راستے کھولے گا۔
انہوں کہا گیا یہ منصوبہ تقریباً 74.43 لاکھ افراد-دن کی براہِ راست اور 93.04 لاکھ افراد-دن کی بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا کرے گا، ۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


