Bharat Express DD Free Dish

Operation Sindoor

انھوں نے کانگریس لیڈر اور قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ کانگریس کے تمام لیڈران راہل گاندھی سے ناراض ہیں۔

راہل گاندھی یہ بھی الزام لگایا ہے کہ مودی نے پاکستان کے خلاف جنگ روکنے پر اتفاق کرکے ہندوستان کے وقار کے ساتھ سمجھوتہ کیا ہے۔

بھارت کی مسلح افواج نے اس آپریشن میں پاکستان کے اندر موجود نو دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور 100 سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان ہر عسکری تصادم میں پاکستان کے ناپاک عزائم دنیا کے سامنے بے نقاب ہوئے ہیں اور اسے ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

پی ایم مودی نے کہا کہ پتہ نہیں پاکستان کا رحیم یار خان ایئربیس کب کھلے گا، یہاں سے سرحد کے بالکل پار ہے، وہ  آئی سی یو میں ہے، بھارتی فوج کے درست حملے نے اس ایئربیس کو تباہ کردیا ہے۔

پی ایم مودی نے کہا کہ ہماری حکومت نے فوج کو فری ہینڈ دیا اور تینوں فوجوں نے مل کر ایسا چکرویہ بنایا کہ پاکستان گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگیا۔ 22 کو ہونے والے حملے کے جواب میں ہم نے 22 منٹ میں دہشت گردوں کے نو بڑے ٹھکانے تباہ کر دیئے۔

وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کا موقف واضح ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر دہشت گرد پاکستان میں ہیں، تو بھارت انہیں وہیں نشانہ بنائے گا۔

روانگی سے قبل سنجے جھا نے کہا کہ اس دورے کا مقصد دہشت گردی کو پناہ دینے کی پاکستان کی پالیسی اور آپریشن سندور کے تحت اس کے جواب میں بھارت کی جانب سے کی گئی کارروائی کی سچائی پوری دنیا کو بتانا ہے۔

"آپریشن سندور" بھارت کی دہشت گردی کے خلاف پالیسی میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا، جس میں پہلی بار سرحد پار دہشت گردی کے خلاف جارحانہ اور فیصلہ کن کارروائی کی گئی۔ یہ آپریشن نہ صرف عسکری لحاظ سے بلکہ سفارتی اور سیاسی سطح پر بھی بھارت کی مضبوطی اور عزم کا مظہر ہے۔

وزیر اعظم مودی نے واضح الٹی میٹم جاری کیا ہے: مستقبل میں پاکستانی سرزمین سے کسی بھی دہشت گردانہ حملے کو جنگی کارروائی کے طور پر دیکھا جائے گا۔