Bharat Express DD Free Dish

Operation Sindoor

جے شنکر نے ارکان کو بتایا کہ آپریشن سندور کے پہلے مرحلے کے بعد جب امریکی وزیر نے کہا کہ پاکستان بڑا حملہ کر سکتا ہے تو ہم نے جواب دیا کہ اگر پاکستان بڑا حملہ کرتا ہے تو ہم اس سے بھی بڑا حملہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

گیانا کے نائب صدر جگدیو سے ملاقات کے دوران تھرور نے کہا کہ ہندوستان اور گیانا کے درمیان اقتصادی تعاون پر بھی بات چیت کی گئی۔ گیانا ایک تیزی سے ترقی کرنے والا ملک ہے،

گجرات کے داہود میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ آج ہم اسمارٹ فون سے لے کرگاڑی اورکھلونا سب کچھ بنا رہے ہیں۔ ہندوستان آج تیز رفتارسے آگے جا رہا ہے۔

میں 3 سال پہلے اس کا سنگ بنیاد رکھنے آیا تھا۔ اب اس فیکٹری میں پہلا الیکٹرک لوکوموٹیو تیار ہو چکا ہے۔ آج گجرات نے ایک اور سنگ میل حاصل کیا ہے۔

وزیر اعظم اپنے دورے کے دوران 82,000 کروڑ روپے کے کئی ترقیاتی پروجیکٹوں کا افتتاح کریں گے۔  وزیر اعظم مودی پیر کو اپنے گجرات دورے کے دوران داہود سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے وندے بھارت ایکسپریس سمیت دو نئی ٹرینوں کو ہری جھنڈی دکھائیں گے۔

رپورٹ مئی 2025 میں  بھارت پاک  فوجی تصادم  اور پہلگام حملے جیسے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ "پاکستان علاقائی عدم استحکام میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے، لیکن...

وزیر اعظم مودی شام کو بھج جائیں گے، جہاں وہ بھج میں 53,400 کروڑ روپے سے زیادہ کے کئی ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھیں گے اور افتتاح کریں گے اور ایک عوامی تقریب سے بھی خطاب کریں گے۔

میٹنگ میں پی ایم مودی نے آپریشن سندور کی کامیابی پر مسلح افواج کو مبارکباد دی۔ اس کے  ساتھ ہی ایک قرارداد بھی منظور کی جائے گی، جس میں اس کامیابی کو سراہا جائے گا

پی ایم مودی نے کہا کہ کچھ خاندانوں نے عہد لیا ہے کہ ہم اپنی اگلی چھٹیاں ملک کے کسی خوبصورت مقام پر گزاریں گے۔ کئی نوجوانوں نے ’ویڈ ان انڈیا‘ کا عہد کیا ہے، وہ ملک میں ہی شادی کریں گے۔ کسی نے یہ بھی کہا ہے کہ اب جو بھی تحفہ دیں گے، وہ کسی ہندوستانی کاریگر کے ہاتھوں سے بنا ہوگا۔

پی ایم مودی نے بیکانیر کے دورے کے دوران بچوں سے اپنی ملاقات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا، ’’میں ابھی تین دن پہلے بیکانیر گیا تھا۔ وہاں بچوں نے مجھے ایسی ہی ایک پینٹنگ پیش کی۔ آپریشن سندور نے ملک کے لوگوں کو اتنا متاثر کیا ہے کہ کئی خاندانوں نے اسے اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا ہے۔ بہار کے کٹیہار، یوپی کے کشی نگر اور دیگر کئی شہروں میں، اس دوران پیدا ہونے والے بچوں کا نام ’سندور‘ رکھا گیا ہے۔‘‘