آپریشن سندور کے دوران ہندوستان پاکستان جنگ بندی پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر اپوزیشن اب بھی مرکزی حکومت پر حملہ کر رہی ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ نے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کرائی ہے۔ ساتھ ہی حکومت بار بار کہہ رہی ہے کہ اس میں کسی تیسرے ملک کی مداخلت نہیں ہے۔ اسی سلسلے میں ایک بار پھر وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ ہم نے تمام ممالک سے کہہ دیا ہے کہ پاکستان رُکے گا تو ہی روکیں گے، ورنہ ہم سخت جواب دیتے رہیں گے۔خارجہ امور کی مشاورتی کمیٹی کے اجلاس میں ایس۔ جے شنکر نے شرکت کی۔ ذرائع کے مطابق اس دوران انہوں نے غیر ملکی مداخلت کے بارے میں کہا کہ جب بھی ہم سے کسی بھی ملک نے پوچھا تو ہم نے صرف یہی کہا کہ پاکستان فائر کرے گا تو ہم بھی فائر کریں گے، ہم تب ہی رُکیں گے جب وہ رُکے گا۔ اس کے علاوہ انڈس واٹر ٹریٹی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ جو بھی ہوگا وہ ملک کے مفاد میں ہوگا اور اچھا ہوگا۔
جے شنکر نے ارکان کو بتایا کہ آپریشن سندور کے پہلے مرحلے کے بعد جب امریکی وزیر نے کہا کہ پاکستان بڑا حملہ کر سکتا ہے تو ہم نے جواب دیا کہ اگر پاکستان بڑا حملہ کرتا ہے تو ہم اس سے بھی بڑا حملہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی سے متعلق پوسٹ پر وزیر خارجہ نے کہا کہ جنگ بندی دونوں ڈی جی ایم اوز کے درمیان بات چیت کے باعث ہوئی اور اس میں کسی ملک کا کوئی کردار نہیں تھا۔
اپنے بیان پر ہنگامہ آرائی پر جے شنکر نے آپریشن سندور کے بعد پاکستان کو دی گئی معلومات پر ایک بار پھر صورتحال واضح کی اور کہا کہ آپریشن سندور مکمل ہونے کے فوراً بعد پاکستان کو مطلع کیا گیا کہ ہماری طرف سے صرف دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔اس کے ساتھ وزیر خارجہ نے کمیٹی کے ارکان سے اپیل کی کہ اگر آپ کو کوئی معلومات درکار ہوں تو براہ راست حکومت سے بات کریں۔ میڈیا میں جا کر آپریشن سندور پر سوال نہ اٹھائیں کیونکہ اس سے ماحول خراب ہوگا، پاکستان کو موقع ملے گا اور آپریشن سندور ابھی ختم نہیں ہواہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

