Bharat Express DD Free Dish

Operation Sindoor

یہ آپریشن بھارت کی خارجہ پالیسی میں ایک نئے دور کا آغاز ہے، جسے مضمون "مودی ڈاکٹرائن" کا نام دیتا ہے۔ اس نظریے کے تحت، بھارت اب محض ردعمل دینے کے بجائے پیشگی اقدامات کرے گا۔ آپریشن سندور اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت اپنے دشمنوں کو ان کی سرزمین پر ہی چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

آپریشن سندور نے ہندوستان کی فوجی اور سفارتی طاقت کا مظاہرہ کیا، جسے وزیراعظم مودی نے "نیا معیار" قرار دیا۔ اس نے نہ صرف پاکستان کے دہشت گردی کے ٹھکانوں کو تباہ کیا بلکہ عالمی برادری کو یہ پیغام بھی دیا کہ ہندوستان اب دہشت گردی کے خلاف غیر متزلزل انداز میں کارروائی کرے گا۔

ہما قریشی نے بین الاقوامی سرحد پہنچ کربین الاقوامی سرحد پہنچ کربی ایس ایف کے جوانوں کی بہادری پر سلام پیش کیا۔ : 'آپریشن سندور' کے لئے اداکارہ نے سبھی کا شکریہ ادا کیا۔ اداکارہ  ہما قریشی نے کہا کہ انہیں ایک بارپھراحساس ہوا کہ ہم کتنے خوش قسمت ہیں کہ جوان ہماری سرحدوں میں کی حفاظت کررہے ہیں۔

بلوچ لیڈر میریار نے وزیر اعظم مودی سے گزارش کی کہ بلوچستان کے ساتھ ہندوستان سرکاری تعلقات استوار کرے اور دہلی میں بلوچستان کا سفارت خانہ کھولے۔

جے ہند سبھا میں راجیہ سبھا ممبر اجے ماکن، راجستھان کے سابق وزیراعلیٰ اشوک گہلوت، کرنل روہت چودھری، الکا لامبا، ڈاکٹر ادت راج، ہارون یوسف، ڈاکٹر نریندر ناتھ، ایڈووکیٹ سنیل کمار، اور انل بھاردواج بھی موجود تھے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ادین نے منگل کو دنہاٹا میں ایک سرکاری تقریب میں شرکت کی۔ اس دوران وزیر اعظم کا نام لیے بغیر ترنمول لیڈر نے کہا، 'پہلے کوئی چائے بیچ رہا تھا، اب وہ سندور بیچ  بیچ رہے ہیں۔ وہ اس سندور کو بیچنے شمالی بنگال کے علی پور دوار آ رہے ہیں۔

سپریم کورٹ نے ہریانہ حکومت سے کہا ہے کہ جانچ کو دو سوشل میڈیا پوسٹ تک ہی محدود رکھا جائے۔  ڈیوائس ضبط کرنے یا دوسرے پہلوؤں پرجانچ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ عدالت نے کہا کہ رپورٹ تیار ہونے کے بعد پہلے سپریم کورٹ کو دکھائی جائے اور اس کے بعد جولائی میں اس معاملے پر سماعت ہوگی۔

بمبئی ہائی کورٹ نے منگل کو انجینئرنگ کی ایک 19 سالہ طالبہ کو ضمانت دیتے ہوئے مہاراشٹر حکومت پر سخت نکتہ چینی کی۔

نئے ویڈیو میں پاکستان میں دہشت گردانہ ٹھکانوں پربی ایس ایف کے بالکل درست حملے کو دکھایا گیا ہے۔ اس دوران دہشت گردانہ ٹھکانوں کونشانہ بنایا ہے۔

آپریشن سندور کے بعد مرکزی وزیر داخلہ 29-30 مئی کو جموں و کشمیر کا اپنا پہلا دورہ کریں گے۔ اس دوران وہ سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لے سکتے ہیں اور فائرنگ کے متاثرین سے بھی ملاقات کر سکتے ہیں۔