Bharat Express DD Free Dish

Operation Sindoor

عالمی برادری کو یہ پیغام دیا کہ بھارت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحد ہے۔ تاہم، کچھ اپوزیشن رہنماؤں، جیسے کہ سی پی آئی کے ڈی راجہ، نے اس بات پر تنقید کی کہ حکومت نے آپریشن سے پہلے پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لیا، جس سے اندرونی سیاسی بحث چھڑ گئی۔

اس سفارتی اقدام نے بھارت کو عالمی حمایت حاصل کرنے میں کامیابی دلائی ہے، لیکن کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بھارت اس تنازع سے مکمل طور پر فاتح کے طور پر ابھرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے واضح کیا کہ آپریشن سندور جاری ہے اور موجودہ جنگ بندی صرف ایک وقفہ ہے۔

آپریشن سے پہلے بھارت نے اپنے عالمی اتحادیوں کے ساتھ رابطے بڑھائے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کو یقینی بنایا۔ اس سے بھارت کی عالمی ساکھ میں اضافہ ہوا اور اسے ایک ذمہ دار اور طاقتور قوم کے طور پر پیش کیا گیا۔

یہ آپریشن بھارت کی خارجہ پالیسی میں ایک نئے دور کا آغاز ہے، جسے مضمون "مودی ڈاکٹرائن" کا نام دیتا ہے۔ اس نظریے کے تحت، بھارت اب محض ردعمل دینے کے بجائے پیشگی اقدامات کرے گا۔ آپریشن سندور اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت اپنے دشمنوں کو ان کی سرزمین پر ہی چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

آپریشن سندور نے ہندوستان کی فوجی اور سفارتی طاقت کا مظاہرہ کیا، جسے وزیراعظم مودی نے "نیا معیار" قرار دیا۔ اس نے نہ صرف پاکستان کے دہشت گردی کے ٹھکانوں کو تباہ کیا بلکہ عالمی برادری کو یہ پیغام بھی دیا کہ ہندوستان اب دہشت گردی کے خلاف غیر متزلزل انداز میں کارروائی کرے گا۔

ہما قریشی نے بین الاقوامی سرحد پہنچ کربین الاقوامی سرحد پہنچ کربی ایس ایف کے جوانوں کی بہادری پر سلام پیش کیا۔ : 'آپریشن سندور' کے لئے اداکارہ نے سبھی کا شکریہ ادا کیا۔ اداکارہ  ہما قریشی نے کہا کہ انہیں ایک بارپھراحساس ہوا کہ ہم کتنے خوش قسمت ہیں کہ جوان ہماری سرحدوں میں کی حفاظت کررہے ہیں۔

بلوچ لیڈر میریار نے وزیر اعظم مودی سے گزارش کی کہ بلوچستان کے ساتھ ہندوستان سرکاری تعلقات استوار کرے اور دہلی میں بلوچستان کا سفارت خانہ کھولے۔

جے ہند سبھا میں راجیہ سبھا ممبر اجے ماکن، راجستھان کے سابق وزیراعلیٰ اشوک گہلوت، کرنل روہت چودھری، الکا لامبا، ڈاکٹر ادت راج، ہارون یوسف، ڈاکٹر نریندر ناتھ، ایڈووکیٹ سنیل کمار، اور انل بھاردواج بھی موجود تھے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ادین نے منگل کو دنہاٹا میں ایک سرکاری تقریب میں شرکت کی۔ اس دوران وزیر اعظم کا نام لیے بغیر ترنمول لیڈر نے کہا، 'پہلے کوئی چائے بیچ رہا تھا، اب وہ سندور بیچ  بیچ رہے ہیں۔ وہ اس سندور کو بیچنے شمالی بنگال کے علی پور دوار آ رہے ہیں۔

سپریم کورٹ نے ہریانہ حکومت سے کہا ہے کہ جانچ کو دو سوشل میڈیا پوسٹ تک ہی محدود رکھا جائے۔  ڈیوائس ضبط کرنے یا دوسرے پہلوؤں پرجانچ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ عدالت نے کہا کہ رپورٹ تیار ہونے کے بعد پہلے سپریم کورٹ کو دکھائی جائے اور اس کے بعد جولائی میں اس معاملے پر سماعت ہوگی۔