Bharat Express DD Free Dish

Operation Sindoor

عاصم منیر نے ہمیشہ کی طرح بھارت پر دہشت گردی پھیلانے کا جھوٹا الزام بھی لگایا۔ جموں و کشمیر کے پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کے بعد بھارت نے پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ توڑ دیا۔

۔ششی تھرور نے ناقدین کو ’’ٹرول اور بنیاد پرست‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے الفاظ کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے اوران کے پاس اس سے  مزید اہم کام کرہیں۔

اس مشق کے دوران، شہریوں کو ایمرجنسی کٹس تیار کرنے، محفوظ مقامات کی نشاندہی کرنے، اور آفت کے دوران حکومتی ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کرنے کی تربیت دی جائے گی۔ اس کے علاوہ، اسکولوں اور کالجوں میں بھی خصوصی ورکشاپس کا انعقاد کیاجائے گا۔

وفود کی قیادت ششی تھرور، روی شنکر پرساد، سنجے جھا، کنی موزی کروناندھی، سپریا سولے، بجیانت پانڈا اور شریکانت شندے نے کی۔ ان رہنماؤں نے پاکستان کی دہشت گردی کی سرپرستی پر روشنی ڈالی اور ہندوستان کی زیرو ٹالرنس پالیسی پر زور دیا۔

کانگریس کے سینئرلیڈرراہل گاندھی نے وزیراعظم نریندرمودی کوخط لکھ کرپاکستانی گولہ باری سے متاثرہ جموں وکشمیرکے پونچھ ضلع کے شہریوں کے لئے فوری راحت اوربازآباد کاری کا مطالبہ کیا ہے۔ پونچھ دورے کے دوران انہوں نے متاثرین کی خستہ حالی دیکھی اور مرکزی حکومت سے متاثرہ علاقوں کے لئے بڑے پیمانے پر منصوبہ بنانے کی گزارش کی۔

پاکستان کی معیشت پہلے ہی کمزور ہے، اور آپریشن سندور نے اس کی فوجی صلاحیتوں کو مزید نقصان پہنچایا۔ پاکستانی فضائیہ کے ریڈار نیٹ ورک اور کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز کی تباہی نے اس کی دفاعی صلاحیتوں کو پانچ سال پیچھے دھکیل دیا۔

آپریشن سندور کے دوران بھارت نے نہ صرف دہشت گرد ٹھکانوں بلکہ پاکستانی فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا، جو ایک نئی اسٹریٹجک تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ مضمون کے مطابق، پاکستانی فضائیہ کی کمزوریوں کو بے نقاب کرتے ہوئے اس کے چینی اور ترک ساختہ ہتھیاروں کی ناکامی کو اجاگر کیا گیا۔

عالمی برادری کو یہ پیغام دیا کہ بھارت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحد ہے۔ تاہم، کچھ اپوزیشن رہنماؤں، جیسے کہ سی پی آئی کے ڈی راجہ، نے اس بات پر تنقید کی کہ حکومت نے آپریشن سے پہلے پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لیا، جس سے اندرونی سیاسی بحث چھڑ گئی۔

اس سفارتی اقدام نے بھارت کو عالمی حمایت حاصل کرنے میں کامیابی دلائی ہے، لیکن کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بھارت اس تنازع سے مکمل طور پر فاتح کے طور پر ابھرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے واضح کیا کہ آپریشن سندور جاری ہے اور موجودہ جنگ بندی صرف ایک وقفہ ہے۔

آپریشن سے پہلے بھارت نے اپنے عالمی اتحادیوں کے ساتھ رابطے بڑھائے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کو یقینی بنایا۔ اس سے بھارت کی عالمی ساکھ میں اضافہ ہوا اور اسے ایک ذمہ دار اور طاقتور قوم کے طور پر پیش کیا گیا۔