Bharat Express DD Free Dish

Operation Sindoor set Pakistan air force back by five years: آپریشن سندور کے پاکستان کی فضائیہ کو ایک جھٹکے میں پانچ سال پیچھے کردیا

آپریشن سندور کے دوران بھارت نے نہ صرف دہشت گرد ٹھکانوں بلکہ پاکستانی فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا، جو ایک نئی اسٹریٹجک تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ مضمون کے مطابق، پاکستانی فضائیہ کی کمزوریوں کو بے نقاب کرتے ہوئے اس کے چینی اور ترک ساختہ ہتھیاروں کی ناکامی کو اجاگر کیا گیا۔

آپریشن سندور کے ذریعے بھارت نے صرف چار دنوں میں پاکستانی فضائیہ کو “اندھا، سُن اور مفلوج” کر دیا، جس سے اسے پانچ سال کا دھچکا لگا۔ یہ آپریشن 22 اپریل 2025 کو پہلگام دہشت گرد حملے کے جواب میں شروع کیا گیا، جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے۔ 6-7 مئی کی رات بھارت نے بہاولپور اور مریدکے میں دہشت گرد ٹھکانوں پر حملے کیے، جس کے جواب میں پاکستان نے میزائل حملے کیے، لیکن بھارت کے مضبوط فضائی دفاعی نظام نے انہیں ناکام بنا دیا۔ اس کے بعد 9-10 مئی کی رات بھارتی فضائیہ نے پاکستان کے چکلالہ، سرگودھا، رحیم یار خان، اور کراچی سمیت متعدد فضائی اڈوں پر درست حملے کیے، جنہوں نے پاکستانی فضائیہ کی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا۔

آپریشن سندور میں بھارتی فضائیہ نے جدید کروز میزائلوں، لمبی دوری کے اسٹینڈ آف ہتھیاروں، اور ہارپ اور ہارپی جیسے لوئٹرنگ ایمونیشن کا استعمال کیا، جنہوں نے پاکستانی فضائیہ کے ریڈار نیٹ ورک اور کمانڈ اینڈ کنٹرول (C2) مراکز کو تباہ کر دیا۔ مضمون کے مطابق، چکلالہ، مرید، اور سرگودھا کے C2 مراکز کو ریمپیج اور اسکالپ جیسے تیز رفتار کروز میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، جو میراج، رافیل، سو-30، اور مگ-29 طیاروں سے داغے گئے۔ ان حملوں نے پاکستانی فضائیہ کی رابطہ کاری اور میدان جنگ کی صورتحال جانچنے کی صلاحیت کو ختم کر دیا، جس سے وہ “مفلوج” ہو گئی۔ پاکستانی طیاروں کو بھارت کے S-400، آکاش، اور دیگر دفاعی نظاموں کے خوف سے اپنی سرزمین کے اندر گہرائی میں پرواز کرنا پڑا۔

بھارت نے پاکستانی فضائیہ کے اہم اڈوں، جیسے کہ بھولاری ایئر بیس، کو نشانہ بنایا، جہاں ایک ساب 2000 AEW&C طیارہ اور تین سے چار مغربی ساخت کے جنگی طیاروں سمیت ایک ہینگر تباہ کر دیا گیا۔ مضمون بتاتا ہے کہ پنجاب سیکٹر کے ایک اڈے پر تین میزائل رن وے کے مختلف حصوں پر داغے گئے، جس سے پاکستانی طیاروں کی پروازیں کم از کم آٹھ گھنٹوں کے لیے معطل ہو گئیں۔ پاکستانی فضائیہ کے ریڈار نیٹ ورک کی تباہی نے اسے بھارتی سرگرمیوں کی نگرانی سے قاصر کر دیا، اور اس کی فضائی دفاعی صلاحیتوں میں بڑے خلاء پیدا ہو گئے۔ پاکستانی فوج کے چینی اور ترک ساختہ ڈرونز بھارتی فضائی دفاع کو مغلوب کرنے میں ناکام رہے، کیونکہ بھارت نے سیچن سے نالیا تک اپنا دفاعی نیٹ ورک مکمل طور پر فعال رکھا۔

آپریشن سندور کے دوران بھارت نے نہ صرف دہشت گرد ٹھکانوں بلکہ پاکستانی فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا، جو ایک نئی اسٹریٹجک تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ مضمون کے مطابق، پاکستانی فضائیہ کی کمزوریوں کو بے نقاب کرتے ہوئے اس کے چینی اور ترک ساختہ ہتھیاروں کی ناکامی کو اجاگر کیا گیا۔ پاکستانی میزائلوں کی ناکامی کی ایک مثال یہ ہے کہ کچھ میزائل بغیر پھٹے گرے، جنہیں بعد میں شہریوں نے جمع کر کے بھارتی فورسز کے حوالے کیا۔ پاکستانی فضائیہ کی بدحواسی اس وقت واضح ہوئی جب اس کے کچھ افسران نے اپنی نقل و حرکت چھپانے کے لیے شہری ایئر کرافٹ کوریڈورز کا سہارا لیا۔ اس آپریشن کی نگرانی بھارتی AWACS اور سیٹلائٹس کے ذریعے کی گئی، جس نے درست اور فیصلہ کن حملوں کو ممکن بنایا۔

آپریشن سندور نے نہ صرف پاکستانی فضائیہ کو فوجی نقصان پہنچایا بلکہ ایک اسٹریٹجک پیغام بھی دیا کہ بھارت اب دہشت گردی کے خلاف سخت اور گہرے حملوں کی صلاحیت رکھتا ہے۔ 10 مئی کی صبح تک پاکستان اپنے تباہ شدہ ریڈار اور C2 نظاموں کی وجہ سے بدحواسی کا شکار تھا اور اسے جنگ بندی کی درخواست کرنا پڑی۔ مضمون یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ یہ آپریشن بھارت کی نئی فوجی حکمت عملی کا مظہر ہے، جو “مودی ڈاکٹرائن” کے تحت دہشت گردی کے خلاف صفر برداشت اور فعال ردعمل پر مبنی ہے۔ اس نے پاکستان اور اس کے حامیوں کو حیران کر دیا، اور بھارت کی عالمی سطح پر ایک طاقتور قوم کے طور پر پوزیشن کو مزید مضبوط کیا۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read