Bharat Express DD Free Dish

For IMF and World Bank, on Pakistan, a query: آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے لیے پاکستان پر ایک بڑا سوال

پاکستان کی معیشت پہلے ہی کمزور ہے، اور آپریشن سندور نے اس کی فوجی صلاحیتوں کو مزید نقصان پہنچایا۔ پاکستانی فضائیہ کے ریڈار نیٹ ورک اور کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز کی تباہی نے اس کی دفاعی صلاحیتوں کو پانچ سال پیچھے دھکیل دیا۔

آپریشن سندور کے بعد بھارت نے عالمی مالیاتی اداروں، جیسے کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک، سے سوال اٹھایا ہے کہ کیا وہ ایک ایسے ملک (پاکستان) کو مالی امداد جاری رکھیں گے جو دہشت گردی کی سرپرستی کرتا ہے۔ یہ آپریشن، جو 7 مئی 2025 کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر (پی او کے) اور پاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف کیا گیا، 22 اپریل کے پہلگام دہشت گرد حملے کے جواب میں تھا، جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے۔رپورٹ کے مطابق  بھارت نے اپنی سفارتی کوششوں کے ذریعے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کی مالی امداد کے پروگرامز کا جائزہ لیں۔ بھارت کا موقف ہے کہ پاکستان کی معیشت دہشت گردی کی سرپرستی سے جڑی ہوئی ہے، اور اس کی مالی امداد سے دہشت گرد نیٹ ورکس کو فائدہ پہنچتا ہے۔ آپریشن سندور کے دوران بھارت نے پاکستان کے فوجی اڈوں اور دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جس سے پاکستان کی فوجی اور معاشی کمزوریاں بے نقاب ہوئیں۔ بھارت نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مالی امداد پر نظرثانی کرے جو پاکستان کو ملتی ہے، کیونکہ یہ بالواسطہ طور پر دہشت گردی کو تقویت دے سکتی ہے۔

بھارت نے اپنی سفارتی مہم کے تحت سات تمام جماعتی وفود کو 33 عالمی دارالحکومتوں میں بھیجا، جنہوں نے پاکستان کی دہشت گردی کی سرپرستی کے ثبوت پیش کیے۔ رپورٹ کے مطابق، ان وفود نے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے نمائندوں کے ساتھ ملاقاتیں کیں اور زور دیا کہ پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے والی امداد دہشت گرد گروہوں کے لیے وسائل فراہم کر سکتی ہے۔ بھارت نے خاص طور پر 26/11 ممبئی حملوں اور دیگر واقعات کا حوالہ دیا، جن میں پاکستان کا کردار ثابت ہوا ہے۔ یہ سفارتی دباؤ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔

پاکستان کی معیشت پہلے ہی کمزور ہے، اور آپریشن سندور نے اس کی فوجی صلاحیتوں کو مزید نقصان پہنچایا۔ پاکستانی فضائیہ کے ریڈار نیٹ ورک اور کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز کی تباہی نے اس کی دفاعی صلاحیتوں کو پانچ سال پیچھے دھکیل دیا۔ اس صورتحال میں، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے ملنے والی امداد پاکستان کے لیے سانس لینے کا موقع فراہم کرتی ہے، جو بھارت کے نزدیک ناقابل قبول ہے۔ بھارت نے انڈس واٹر ٹریٹی کی معطلی اور پاکستانی شہریوں کے ویزوں پر پابندی لگا کر معاشی دباؤ بڑھایا ہے۔ بھارت کا یہ سوال آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے لیے ایک اخلاقی اور اسٹریٹجک چیلنج ہے۔ اگر یہ ادارے پاکستان کو امداد جاری رکھتے ہیں تو وہ بالواسطہ طور پر دہشت گردی کی مالی اعانت کے الزامات کی زد میں آ سکتے ہیں۔ بھارت کی یہ سفارتی مہم “مودی ڈاکٹرائن” کا حصہ ہے، جو دہشت گردی کے خلاف صفر برداشت اور فعال ردعمل پر زور دیتی ہے۔ یہ اقدام بھارت کے عالمی کردار کو مضبوط کرتا ہے اور عالمی مالیاتی اداروں کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا وہ ایک ایسی ریاست کی حمایت جاری رکھ سکتے ہیں جو دہشت گردی سے جڑی ہوئی ہے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read