Bharat Express DD Free Dish

Operation Sindoor

۔سلمان  خورشید، جو کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن ہیں، نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف قومی اتفاق رائے کو عالمی سطح پر پیش کرنا ضروری ہے، اور اس بحث کو ملکی سیاسی اختلافات میں نہیں الجھنا چاہیے۔

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے وزیر اعظم کے حالیہ عوامی بیانات اور سیاسی سرگرمیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے مشورہ دیا کہ مودی کو انتخابی مہم سے عارضی طور پر پیچھے ہٹ جانا چاہیے۔

بی جے پی لیڈر نے کہا کہ ’’میرے خیال میں اپوزیشن کو پہلے یہ طے کرنا چاہیے کہ وہ آخر وزیراعظم مودی سے سننا کیا چاہتے ہیں؟

آچاریہ پرمود کرشنم نے کہا کہ اپوزیشن نریندر مودی کی نہیں، بلکہ بھارت کے وقار اور شجاعت کی توہین کر رہا ہے۔ بھارت کی بیٹیوں کے سندور کی طاقت کو پاکستان سمیت پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔

وزارت دفاع نے اتوار کو آپریشن سندور کے موضوع پر مضمون نویسی کے قومی مقابلے کا اعلان کیا ہے، جس کے لیے یکم سے 30 جون تک مضامین بھیجے جا سکتے ہیں۔

ششی تھرور نے کہا، "کولمبیا میں  بدقسمتی سے آپریشن سندور کے دوران ایک بیان جاری کیا گیا، جس میں دراصل ہندوستان کے بارے میں کچھ کہنے کے بجائے پاکستانی متاثرین کے تئیں تعزیت کا اظہار کیا گیا

جنرل انل چوہان نے یہ بھی واضح کیا کہ آپریشن سندور ضروری تھا ،کیونکہ دہشت گردی کی وجہ سے بھارت کی برداشت کی حد پار ہو چکی تھی۔

اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے کہا کہ اسلام کسی بے گناہ کے قتل کی اجازت نہیں دیتا۔ یہ بدقسمتی ہے کہ دہشت گردوں نے اسے مذہب کے طور پر دکھانے اور بتانے  کی کوشش کی ہے۔

کانگریس پارٹی نے آپریشن سندور کے دوران ہندوستانی مسلح افواج کو ہونے والے ممکنہ نقصانات پر پھر سوالات اٹھائے ہیں۔

واضح رہے کہ ہندوستان نے 22 اپریل کو پہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کے بعد، جس میں 26 سیاحوں کی جان گئی تھی، پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (پی او کے) میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر ’آپریشن سندور‘ کے تحت حملہ کیا تھا۔