Bharat Express DD Free Dish

Operation Sindoor

اسدالدین اویسی نے کہا کہ جس  اقوام متحدہ میں انہوں نے بات کی، اسی نے مختلف ممالک کے سفارت کاروں کی ایک ٹیم تحقیقات کے لیے پاکستان بھیجی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ ان کے قتل کے معاملے میں پاکستان کی جانب سے کی گئی تحقیقات ناقص تھیں

مرکزی پارلیمانی امورکے وزیرکرن رجیجونے بدھ کواعلان کیا کہ پارلیمنٹ کا مانسون سیشن 21 جولائی سے شروع ہوگا اور12 اگست تک جاری رہے گا۔ ان 23 دنوں میں پاکستان سے لے کرآپریشن سندھ، قومی سلامتی، معیشت اورکئی بلوں پربحث متوقع ہے۔

مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے لیے، الیکٹرانکس، قابل تجدید توانائی، اور دفاع جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری کو بڑھایا گیا۔ اس کے نتیجے میں، بھارت نہ صرف عالمی سپلائی چین کا حصہ بنا بلکہ کئی شعبوں میں خود کفالت کی طرف بھی بڑھا۔

بھارت کے مطابق "آپریشن سندور" محض ایک فوجی کارروائی نہیں تھی بلکہ یہ اس کی اس نئی دفاعی حکمت عملی کا مظہر ہے جو سرحد پار دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی اور جوہری دھمکیوں کے سامنے جھکنے سے انکار پر مبنی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے درست کہا:"خود انحصاری اب صرف پالیسی نہیں، بلکہ قوم کا جذبہ بن چکی ہے۔بھارت کی ٹیکنالوجی، معیشت، اور دفاعی ترقی ایک ایسے مقام پر آ چکی ہے جہاں نہ صرف قومی سلامتی بلکہ عالمی سلامتی میں بھی وہ کردار ادا کر سکتا ہے۔

ریکھا شرما نے یہ بھی کہا کہ بھارت کی قیادت عالمی سطح پر متحرک کردار ادا کر رہی ہے، خاص طور پر خواتین کی قیادت اور شرکت کو فروغ دینے میں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عالمی برادری بھارت کی پالیسیوں اور قیادت کو عزت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

سماج وادی پارٹی کے لیڈر رام گوپال یادو نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ سفارتی محاذ پر وزیر اعظم گزشتہ کئی سالوں سے کئی ممالک کا دورہ کر رہے ہیں، لوگوں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں لیکن ان کے نام نہاد دوست 'مسٹر ٹرمپ' نے جنگ بندی کا اعلان کردیا۔

سلمان خورشید کی جانب سے کل جماعتی پارلیمانی وفد میں حکومت ہند کی تعریف کرنے پر راشد علوی نے کہا کہ جو لوگ وفد میں گئے ہیں، وہ ملک کی نمائندگی کر رہے ہیں، وہ کسی پارٹی کی نمائندگی نہیں کر رہے،

پاکستان نے آپریشن سندور پر کئی بار جھوٹ بولا، لیکن اس کے ڈوزیئر نے اس جھوٹ کو بے نقاب کر دیا۔ پاکستان کے ڈوزیئر میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت نے اندر تک جوابی کارروائی کی تھی۔ اس نے پاکستان میں 20 نہیں بلکہ 28 مقامات پر حملے کیے تھے۔

برازیل کے نائب صدر جیرالڈو سے ملاقات کے بعد ششی تھرور نے کہا کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتحاد چاہتے ہیں۔ ان ممالک میں یہ واضح ہو گیا ہے کہ وہ کچھ مسائل کو سمجھتے ہیں، لیکن کچھ کو پوری طرح سے نہیں سمجھا گیا ہے۔