بھارت کے آپریشن سندور کی کامیابی کو بہت سراہا گیاہے۔ اس دوران ہندوستانی فوج نے پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں دہشت گردوں کے کئی ٹھکانوں کو تباہ کر دیا۔ اب پاکستان کے ڈوزئیر میں آپریشن سندور کے حوالے سے بڑا انکشاف ہوا ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کو اس سے زیادہ نقصان پہنچا ہے جتنا بھارتی فوج نے بتایا ہے۔بھارت نے آپریشن سندور کے دوران صرف دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا لیکن اس کے بعد پاکستانی فوج نے محاذ کھول دیا۔ اس نے ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے بھارت کے کئی شہروں پر حملہ کرنے کی کوشش کی لیکن بھارتی فوج نے اسے ناکام بنا دیا۔ البتہ ہم نے جوابی کارروائی میں پاکستان کے کئی ائیر بیس تباہ کر دیئے۔ پاکستان کے فوجی اڈوں کو بھاری نقصان پہنچایا۔
بھارت نے 20 نہیں بلکہ 28 مقامات کو نشانہ بنایا تھا
پاکستان نے آپریشن سندور پر کئی بار جھوٹ بولا، لیکن اس کے ڈوزیئر نے اس جھوٹ کو بے نقاب کر دیا۔ پاکستان کے ڈوزیئر میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت نے اندر تک جوابی کارروائی کی تھی۔ اس نے پاکستان میں 20 نہیں بلکہ 28 مقامات پر حملے کیے تھے۔ بھارتی فوج نے پریس بریفنگ کے دوران ان مقامات کا ذکر نہیں کیا جہاں پاکستان میں جوابی کارروائی کی گئی تاہم ڈوزیئر میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پشاور، سندھ، جھنگ، گوجرانوالہ، بہاول نگر اور چھور سمیت کئی مقامات کو نقصان پہنچا ہے۔
پاکستان کے کئی ائیر بیس تباہ کر دیے گئے
بھارت نے پاکستان کے کئی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایاتھا۔ بھارت نے نور خان، رفیقی، مریدکے، سکھر، سیالکوٹ، پسرور، چونیاں اور سرگودھا سمیت کل 11 ائیر بیسوں پر جوابی کارروائی کی تھی۔ حال ہی میں میکسار ٹیکنالوجیز نے سیٹلائٹ تصاویر جاری کی تھیں۔ اس کے ذریعے آپریشن سندور کے دوران پاکستان کے فوجی اڈوں کو پہنچنے والے نقصانات کا انکشاف ہوا تھا۔اب چونکہ ہندوستان کی نقل کرتے ہوئے پاکستان بھی اپنے وفد کو بیرون ملک بھیج رہا ہے تو اس دوران جو ڈوزیئر پاکستان نے تیار کیا ہے اس میں اس نے خود اعتراف کیا ہے کہ ہندوستانی فوج نے تباہی کی جو لکیر دکھائی ہے،دراصل وہ کچھ چھوٹی ہے ،پاکستان کو اس سے بڑے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
