Bharat Express DD Free Dish

Operation Sindoor

گزشتہ ہفتے وزیر اعظم مودی نے پاکستان کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہندوستان اس کی سرزمین پر ہونے والی کسی بھی دہشت گردی کی کارروائی کا فیصلہ کن جواب دے گا۔

آسٹریلیا کے نائب وزیر اعظم اور وزیر دفاع رچرڈ مارلس نے پاکستان کے ساتھ ہندوستان کی جنگ بندی کی تعریف کرتے ہوئے اسے ہندوستانی قیادت کا بہترین اقدام قرار دیا ہے۔

پی ایم مودی نے کہا کہ امرناتھ یاترا بھی 3 جولائی سے شروع ہونے والی ہے، عید کا جوش بھی ہم چاروں طرف دیکھ رہے ہیں۔ جموں و کشمیر میں ترقی کا جو ماحول بنا تھا وہ پہلگام حملے سے ہلنے والا نہیں ہے۔ یہ میرا جموں و کشمیر کے لوگوں سے وعدہ ہے کہ میں ترقی کو رکنے نہیں دوں گا۔ یہاں کے نوجوانوں کے خوابوں کو پورا کرنے میں اگر کوئی رکاوٹ آتی ہے تو اس رکاوٹ کو پہلے مودی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ہندوستان نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کے جواب میں 7 مئی کو پاکستان کے خلاف آپریشن سندور شروع کیا تھا۔ ہندوستانی فورسز نے 7 مئی کو فضائی حملوں میں دہشت گردی کے متعدد مقامات کو نشانہ بنایا، جس میں کئی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ دہشت گرد تنظیموں سے وابستہ سو سے زائد دہشت گرد مارے گئے۔

یہ فوجی آپریشن صرف جنگی کارروائی نہیں تھی ،بلکہ مودی حکومت کے 'ترقی یافتہ ہندوستان' کے وژن کی علامت بھی ہے۔ ملک میں دیسی دفاعی پیداوار اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال یہ ثابت کرتا ہے کہ ہندوستان اب صرف ایک رد عمل دینے والا  نہیں، بلکہ ایک فعال اور خود مختار سیکورٹی ملک بن گیا ہے۔

بھارت میں وزیراعظم نریندر مودی کے تیسرے دورِ حکومت کو ایک سال مکمل ہو چکا ہے اور یہ عرصہ ان کی سیاسی، اقتصادی اور سفارتی قیادت کے عروج کی علامت بن کر سامنے آیا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی تیسری مدتِ حکومت کے پہلے سال کا سب سے نمایاں اور اثرانگیز کارنامہ ہے ’’آپریشن سندور‘‘۔

آپریشن سندور میں پاکستان کو ہونے والے نقصانات کی حد تیزی سے واضح ہوتی جا رہی ہے کیوں کہ حالیہ ہند پاک تنازعہ کی مزید تفصیلات سامنے آ رہی ہیں۔

منیش تیواری نے کہا کہ "تمام وفود جو غیر ملکی دوروں پر گئے اور وہاں انہوں نے اپنے ہم منصبوں سے بات کی، انہوں نے دنیا کو واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان ایک دہشت گرد ملک ہے،

لیکن اگر پاکستان یہ سوچتا ہے کہ وہ بار بار ایسا کر سکتا ہے، تو یہ غلط فہمی میں ہے، اگر اس نے ہمیں دوبارہ نقصان پہنچایا تو ہم جواب دیں گے اور دنیا کو یہ سمجھنا چاہیے