پہلگام دہشت گرد حملے، آپریشن سندور، اور بھارت-پاکستان جنگ بندی کے تناظر میں پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانے کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔ آج نئی دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں انڈیا اتحاد کے رہنما ایک اہم اجلاس منعقد کر رہے ہیں تاکہ مشترکہ حکمت عملی تیار کی جائے اور وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک خط پیش کیا جائے، جس میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی پر پارلیمانی بحث کا مطالبہ کیا جائے۔ اطلاعات کے مطابق، 200 سے زائد لوک سبھا اراکین نے اس خط پر دستخط کیے ہیں، اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ دیپندر سنگھ ہڈا آج دوپہر 12:30 بجے اس بارے میں بریفنگ دیں گے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ پہلگام حملے کے بعد قومی یکجہتی دکھانے اور دہشت گردی کے خلاف حکومتی اقدامات پر بحث کے لیے یہ اجلاس ناگزیر ہے۔
پہلگام میں 22 اپریل 2025 کو ہونے والے دہشت گرد حملے، جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے، کے بعد سے اپوزیشن بارہا پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کا مطالبہ کر رہی ہے۔ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے اور اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں۔ اپوزیشن نے وزیر اعظم مودی پر تنقید کی ہے کہ وہ 24 اپریل کو وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کی صدارت میں ہونے والے آل پارٹی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے اور قومی سلامتی پر بحث کے بجائے سیاسی مصروفیات کو ترجیح دی۔ کانگریس نے ’غائب‘ کے نام سے ایک سوشل میڈیا مہم بھی شروع کی، جس میں مودی کی غیر موجودگی پر سوال اٹھائے گئے۔ بی جے پی نے اسے قومی یکجہتی کے خلاف پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے جوابی تنقید کی ہے۔
تاہم، حکومت نے ابھی تک خصوصی اجلاس بلانے کا کوئی واضح عندیہ نہیں دیاہے۔ 30 اپریل 2025 کو مرکزی وزیر ارجن رام میگھوال نے کہا تھا کہ کابینہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور (سی سی پی اے) اس بارے میں فیصلہ کرے گی، لیکن ابھی تک کوئی حتمی اعلان نہیں ہوا۔ انڈیا بلاک کے اندر بھی کچھ اختلافات ہیں، جیسے کہ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی-ایس پی) کے رہنما شرد پوار نے خصوصی اجلاس کی ضرورت پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اس کے باوجود، اپوزیشن پہلگام حملے اور 7 مئی 2025 کو آپریشن سندور—جس میں پاکستان اور پاک مقبوضہ کشمیر میں نو دہشت گرد تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا—کے بعد جنگ بندی کے معاہدے پر شفاف بحث کا مطالبہ کر رہی ہے۔
آپ کو بتادیں کہ عالمی اور ملکی ردعمل نے اس مطالبے کو مزید تقویت دی ہے۔ 8 مئی 2025 کو برطانوی پارلیمنٹ نے بھارت-پاکستان کشیدگی پر بحث کی اور تناؤ کم کرنے کی اپیل کی، جبکہ امریکہ نے دہشت گردی کی مذمت سے گریز کیا، اور چین و ترکیہ نے پاکستان کی حمایت کی۔ اپوزیشن رہنما پریانک کھرگے نے مودی حکومت پر تنقید کی کہ اس نے پاکستان کو آئی ایم ایف قرضوں کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔ انڈیا بلاک کا کہنا ہے کہ خصوصی اجلاس سے پارلیمنٹ دہشت گردی کے خلاف متحدہ موقف اپنا سکتی ہے، جیسا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے رکن ممالک کو بھارت کے زیرو ٹالرنس پالیسی کے پیغام کے لیے بھیجا گیا وفد ظاہر کرتا ہے۔
اپوزیشن کا خصوصی اجلاس کا مطالبہ پارلیمانی نگرانی اور جوابدہی کے وسیع تر خدشات کی عکاسی کرتا ہے۔ کپل سبل اور منوج جھا نے کئی بار زور دے کر کہا ہےکہ ایک متفقہ پارلیمانی قرارداد بھارت کے عالمی موقف کو مضبوط کرے گی۔ اگرچہ حکومت آپریشن سندور کی کامیابی کو اجاگر کر رہی ہے، اپوزیشن کا اصرار ہے کہ قومی سلامتی، پونچھ، اڑی، اور راجوری میں شہری ہلاکتوں، اور خارجہ پالیسی کے فیصلوں سے متعلق اہم سوالات ابھی تک حل طلب ہیں۔ جیسے ہی انڈیا بلاک اپنا مشترکہ خط پیش کرنے کی تیاری کر رہا ہے، سب کی نظریں حکومت کے جواب پر ہیں، کیونکہ اپوزیشن مانسون سیشن سے پہلے ان مسائل پر بحث کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


