Women’s Reservation Bill: لوک سبھا میں ووٹنگ سے پہلے امت شاہ کا بیان — حد بندی پر حمایت دیں، ہم ووٹ کی قیمت برابر کریں گے
امت شاہ نے کہا کہ اس وقت لوک سبھا میں 543 ارکان ہیں، لیکن کئی حلقوں میں ووٹروں کی تعداد میں بہت بڑا فرق ہے۔ کہیں 60 ہزار ووٹر ہیں تو کہیں 49 لاکھ تک ووٹر موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اتنی بڑی تعداد والے حلقوں میں رکن پارلیمنٹ کے لیے تمام ووٹروں تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے۔
Parliament Special Session: آئینی ترمیم میں 50 فیصد نشستیں بڑھانے کو تیار ہوں — خواتین ریزرویشن پر امت شاہ کا اپوزیشن پر حملہ
امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن بظاہر بل کی حمایت کی بات کر رہی ہے، لیکن "اگر مگر" اور "لیکن" جیسے الفاظ کے ذریعے دراصل اس کی مخالفت کر رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ صرف عمل درآمد کا نہیں بلکہ پورے بل کا مسئلہ ہے۔
HM Amit Shah On Southern States Lok Sabha Seats Delimitation: جنوبی ریاستوں کی سیٹیں اوسط سے زیادہ بڑھیں گی…، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے پارلیمنٹ میں حلقہ بندی کا پیش کیا مکمل حساب
لوک سبھا میں خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے واضح کیا کہ کرناٹک، آندھرا پردیش، تلنگانہ اور تمل ناڈو سمیت تمام جنوبی ریاستوں کی نشستوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے منصوبے کے مطابق نشستوں میں تقریباً 50 فیصد اضافہ کیا جائے گا، جس کے نتیجے میں پارلیمنٹ میں مجموعی نمائندگی بڑھے گی اور تمام ریاستوں کو اس کا فائدہ ملے گا۔
Amit Shah On Women Reservation Delimitation: خواتین ریزرویشن بل: 2029 تک تمام انتخابات پرانے نظام کے تحت ہوں گے، وزیر داخلہ امت شاہ کی لوک سبھا میں وضاحت
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے مزید کہا کہ 2029 سے پہلے نہ تو نئی حلقہ بندی نافذ ہوگی اور نہ ہی اس کے تحت انتخابات ہوں گے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ حلقہ بندی کمیشن کی رپورٹ اسی وقت نافذ ہوگی جب پارلیمنٹ اسے منظور کرے گی اور صدر اس پر دستخط کریں گے۔ اس لیے آئندہ انتخابات پرانے حلقوں اور موجودہ نظام کے تحت ہی ہوں گے۔
Women Reservation Bill: وزیر اعظم مودی کی اپوزیشن سے اپیل، خواتین بل اور حلقہ بندی پر سیاست نہ کی جائے
لوک سبھا میں اس اہم بحث کے دوران تازہ ووٹنگ میں 333 اراکین میں سے 207 ارکان نے بل پیش کرنے کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ 126 ارکان نے اس کی مخالفت کی۔ اس ووٹنگ کے بعد ایوان میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی تناؤ مزید بڑھ گیا۔ حکومت اس بل کو آئینی ترمیم کے طور پر آگے بڑھا رہی ہے، جس کے لیے دونوں ایوانوں میں خصوصی اکثریت درکار ہوگی۔
PM Modi Slams Opposition On Women Reservation Bill: خواتین ریزرویشن بل پر وزیر اعظم مودی کا بیان، کہا- حلقہ بندی میں کسی ریاست کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی
پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے دوران خواتین ریزرویشن بل پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے اپوزیشن کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ مجوزہ حلقہ بندی (ڈی لمیٹیشن) کے عمل میں کسی بھی ریاست یا علاقے کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا۔
Women Reservation Bill: خواتین ریزرویشن بل پر پارلیمنٹ میں شدید ہنگامہ، اکھلیش یادو کا حکومت پر حملہ، اپوزیشن نے اٹھائے کئی سوالات، جانئے کس نے کیا کہا؟
اکھلیش یادو نے کہا کہ خواتین ریزرویشن کی آڑ میں حلقہ بندی (ڈی لمیٹیشن) کے ذریعے انتخابی نقشہ بدلنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اس بل کے ذریعے واقعی تمام طبقات کی خواتین کو فائدہ ہوگا، خاص طور پر مسلم اور او بی سی خواتین کو۔ انہوں نے کہا کہ اگر خواتین کو ریزرویشن دینا ہے تو پارٹیوں کو چاہیے کہ وہ خود نشستیں مختص کریں، نہ کہ علاقوں کی بنیاد پر تبدیلی کی جائے۔
Women Reservation Bill: خواتین ریزرویشن بل پر وزیر اعظم مودی کی اپوزیشن سے اپیل، کہا- مخالفت سے میرا فائدہ، حمایت پر آپ کو دوں گا کریڈٹ
ایوان میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ اگر اپوزیشن اس بل کی مخالفت کرتی ہے تو اس سے انہیں سیاسی فائدہ ہوگا، لیکن اگر وہ اس کی حمایت کرتی ہے تو وہ خود اپوزیشن کو اس کا کریڈٹ دینے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ذاتی طور پر کسی قسم کا کریڈٹ نہیں چاہیے۔
INDIA bloc to push for special session: دہلی میں انڈیا الائنس کی اہم میٹنگ آج، پی ایم مودی کو 200سے زائد لوک سبھا ممبران کے دستخط شدہ خط پیش کرنے کی تیاری،جانئے کیا ہے معاملہ
اپوزیشن کا اصرار ہے کہ قومی سلامتی، پونچھ، اڑی، اور راجوری میں شہری ہلاکتوں، اور خارجہ پالیسی کے فیصلوں سے متعلق اہم سوالات ابھی تک حل طلب ہیں۔ جیسے ہی انڈیا بلاک اپنا مشترکہ خط پیش کرنے کی تیاری کر رہا ہے، سب کی نظریں حکومت کے جواب پر ہیں۔
No Special Session: ’’حکومت کے پاس چھپانے کو کچھ نہیں، اپوزیشن مانسون سیشن میں کر سکتی ہے سوال‘‘، مرکزی وزیر گجیندر شیکھاوت نے اسپیشل سیشن کے مطالبوں کو کیا خارج
بی جے پی لیڈر نے کہا کہ ’’میرے خیال میں اپوزیشن کو پہلے یہ طے کرنا چاہیے کہ وہ آخر وزیراعظم مودی سے سننا کیا چاہتے ہیں؟





