Bharat Express DD Free Dish

India’s Diplomatic Triumph Post-Operation Sindoor: آپریشن سندور کے بعد ہندوستان کی سفارتی جیت: دہشت گردی کے خلاف متحدہ محاذ

عالمی برادری کو یہ پیغام دیا کہ بھارت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحد ہے۔ تاہم، کچھ اپوزیشن رہنماؤں، جیسے کہ سی پی آئی کے ڈی راجہ، نے اس بات پر تنقید کی کہ حکومت نے آپریشن سے پہلے پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لیا، جس سے اندرونی سیاسی بحث چھڑ گئی۔

وزیر اعظم نریندر مودی

آپریشن سندور کے بعد بھارت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک شاندار سفارتی کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ آپریشن، جو 7 مئی 2025 کو پاکستان کے زیرقبضہ کشمیر (پی او کے) اور پاکستان میں دہشت گردوں کے نو ٹھکانوں کے خلاف کیا گیا، بھارت کی جارحانہ اور فیصلہ کن پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کے بعد بھارت نے سات تمام جماعتی وفود کو 33 عالمی دارالحکومتوں میں بھیجا، جنہوں نے عالمی رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتیں کیں اور پاکستان کی دہشت گردی کی سرپرستی کے ثبوت پیش کیے۔ اس سفارتی اقدام نے بھارت کی عالمی ساکھ کو مضبوط کیا اور دہشت گردی کے خلاف ایک متحدہ محاذ قائم کیا۔

بھارت کے ان وفود میں مختلف سیاسی جماعتوں کے 51 رہنما اور 8 سابق سفارت کار شامل تھے، جو بھارت کی سیاسی یکجہتی کو ظاہر کرتے ہیں۔ انہوں نے روس، جاپان، فرانس، متحدہ عرب امارات، اور دیگر ممالک کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے بھارت کے “صفر برداشت” کے نظریے پر زور دیا۔ روس نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ تعاون کی یقین دہانی کرائی، جبکہ جاپان اور متحدہ عرب امارات نے بھارت کے موقف کی کھل کر حمایت کی۔ وفود نے 22 اپریل 2025 کے پہلگام حملے سمیت پاکستان کی حمایت یافتہ دہشت گردی کے ثبوت پیش کیے، جس سے عالمی برادری میں بھارت کے موقف کو تقویت ملی۔

آپریشن سندور کے بعد بھارت نے نہ صرف فوجی سطح پر کارروائی کی بلکہ سفارتی دباؤ بھی بڑھایا۔ بھارت نے انڈس واٹر ٹریٹی کو معطل کیا اور پاکستانی شہریوں کے لیے ویزوں پر پابندی لگائی۔ مضمون کے مطابق، یہ وفود پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے میں کامیاب رہے، کیونکہ انہوں نے 26/11 ممبئی حملوں اور دیگر واقعات میں پاکستان کے کردار کو اجاگر کیا۔ اس کے علاوہ، وفود نے بھارت کے نئے اسٹریٹجک نظریے، یعنی “مودی ڈاکٹرائن” کو فروغ دیا، جو دہشت گردی کے خلاف فعال اور سخت موقف کی وکالت کرتا ہے۔

ان وفود کی قیادت بی جے پی، کانگریس، جے ڈی یو، شیو سینا، ڈی ایم کے، اور این سی پی جیسے مختلف جماعتوں کے رہنماؤں نے کی، جن میں بجینت جے پانڈا، ششی تھرور، اور کنیموژی کروناندھی شامل تھے۔ ان کی ملاقاتوں نے نہ صرف بھارت کے موقف کو مضبوط کیا بلکہ عالمی برادری کو یہ پیغام دیا کہ بھارت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحد ہے۔ تاہم، کچھ اپوزیشن رہنماؤں، جیسے کہ سی پی آئی کے ڈی راجہ، نے اس بات پر تنقید کی کہ حکومت نے آپریشن سے پہلے پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لیا، جس سے اندرونی سیاسی بحث چھڑ گئی۔آپریشن سندور اور اس کے بعد کی سفارتی کوششیں بھارت کے نئے عالمی کردار کی عکاسی کرتی ہیں۔ مضمون یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ یہ وفود بھارت کی سفارتی طاقت اور سیاسی اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ آپریشن سندور نے نہ صرف بھارت کی فوجی صلاحیت کو اجاگر کیا بلکہ اس کی سفارتی حکمت عملی کو بھی عالمی سطح پر سراہا گیا۔ یہ اقدام بھارت کے شہریوں اور عالمی برادری کو یہ یقین دلاتا ہے کہ بھارت اپنی سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کو تیار ہے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read