Bharat Express DD Free Dish

Operation Sindoor

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر مادر ہند کے پاس بہادر سپاہیوں کی فوج نہ ہوتی تو ملک کے لوگ کیسے محفوظ رہتے، آج پاکستان دنیا کے سامنے اپنی جان بچانے کی التجا کر رہا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل سمیر ایوان ڈی کنہا نے کہا کہ ہندوستان کی فوجی سوچ میں تبدیلی آئی ہے۔ اب ہم صرف ’’برداشت‘‘ نہیں کرتے، بلکہ صحیح وقت پر صحیح جواب دینے کی پالیسی اپنائی جارہی ہے، جسے انہوں نے شیشوپال اصول کہا۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما وجے شاہ نے کرنل صوفیہ قریشی کے لیے غلط  اور  نا شائستہ الفاظ استعمال کیے تھے۔ وجے شاہ نے کہا تھا کہ وہ دہشت گردوں کی بہن ہے۔ نا شائتہ نے اس پر بھی آواز اٹھائی تھی اور وجے شاہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

سیکرٹری خارجہ وکرم مسری کا کہنا تھا کہ اس آپریشن میں پاکستان کی کسی ایٹمی سائٹ کو نشانہ نہیں بنایا گیا اور نہ ہی پاکستان کی طرف سے کوئی ایٹمی خطرہ یا اشارہ دیا گیا۔

سی ڈی ایس کے ساتھ لیفٹیننٹ جنرل منجندر سنگھ، آرمی کمانڈر ساؤتھ ویسٹرن کمان اور ایئر مارشل ناگیش کپور، ایئر آفیسر کمانڈنگ ان چیف، ساؤتھ ویسٹرن ایئر کمانڈ بھی موجود تھے۔

ہندوستانی سفارت خانے نے یہ واضح پیغام دیا کہ "پاکستان کی جانب سے ہماری چانسری عمارت کے قریب کیے گئے بزدلانہ احتجاج کے جواب میں بھارت نے ’آپریشن سندور‘ کے تحت بھرپور ردعمل دیا ہے۔"

میجر جنرل کارتک سی شیشادری نے کہا کہ پاکستان کا مقصد صرف فوجی اڈوں کو نشانہ بنانا نہیں تھا بلکہ مذہبی مقامات کو بھی نشانہ بنانا تھا۔

کانگریس نے سوشل میڈیا پرایک پوسٹ میں کہا ہے کہ انڈین ریلوے کی ٹکٹ پر’آپریشن سندور‘ اوروزیراعظم نریندرمودی کی تصویر چھاپی جارہی ہے۔ یہ ایک حساس مسئلے پرسیاست ہے۔ مودی حکومت اپنی تشہیرکے لئے ایسے مواقع کا مسلسل استعمال کررہی ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں 25 ستمبر 2014 کو شروع کی جانے والی ’’میک ان انڈیا‘‘ مہم کا مقصد ہندوستان کو دفاعی سازوسامان کی تیاری میں خودکفیل بنانا اور درآمدات پر انحصار کم کرنا ہے۔

آپریشن سندور نے ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان کے پاس موجود چینی ہتھیار اور لڑاکا طیارے سنگین بحران کی گھڑی میں زیادہ مدد نہیں کر سکتے۔