Bharat Express DD Free Dish

Operation Sindoor

سیکرٹری خارجہ وکرم مسری کا کہنا تھا کہ اس آپریشن میں پاکستان کی کسی ایٹمی سائٹ کو نشانہ نہیں بنایا گیا اور نہ ہی پاکستان کی طرف سے کوئی ایٹمی خطرہ یا اشارہ دیا گیا۔

سی ڈی ایس کے ساتھ لیفٹیننٹ جنرل منجندر سنگھ، آرمی کمانڈر ساؤتھ ویسٹرن کمان اور ایئر مارشل ناگیش کپور، ایئر آفیسر کمانڈنگ ان چیف، ساؤتھ ویسٹرن ایئر کمانڈ بھی موجود تھے۔

ہندوستانی سفارت خانے نے یہ واضح پیغام دیا کہ "پاکستان کی جانب سے ہماری چانسری عمارت کے قریب کیے گئے بزدلانہ احتجاج کے جواب میں بھارت نے ’آپریشن سندور‘ کے تحت بھرپور ردعمل دیا ہے۔"

میجر جنرل کارتک سی شیشادری نے کہا کہ پاکستان کا مقصد صرف فوجی اڈوں کو نشانہ بنانا نہیں تھا بلکہ مذہبی مقامات کو بھی نشانہ بنانا تھا۔

کانگریس نے سوشل میڈیا پرایک پوسٹ میں کہا ہے کہ انڈین ریلوے کی ٹکٹ پر’آپریشن سندور‘ اوروزیراعظم نریندرمودی کی تصویر چھاپی جارہی ہے۔ یہ ایک حساس مسئلے پرسیاست ہے۔ مودی حکومت اپنی تشہیرکے لئے ایسے مواقع کا مسلسل استعمال کررہی ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں 25 ستمبر 2014 کو شروع کی جانے والی ’’میک ان انڈیا‘‘ مہم کا مقصد ہندوستان کو دفاعی سازوسامان کی تیاری میں خودکفیل بنانا اور درآمدات پر انحصار کم کرنا ہے۔

آپریشن سندور نے ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان کے پاس موجود چینی ہتھیار اور لڑاکا طیارے سنگین بحران کی گھڑی میں زیادہ مدد نہیں کر سکتے۔

آپریشن سندور نے ظاہر کیا کہ جدید جنگ اب روایتی ہتھیاروں یا بڑے پیمانے پر فوج کے بجائے ٹیکنالوجی، درست ہتھیاروں، اور معلومات کے انتظام پر منحصر ہے۔ ڈرونز، مصنوعی ذہانت، اور سائبر وارفیئر نے جنگ کے میدان کو بدل دیا ہے۔

کانگریس نے آپریشن سندورسے متعلق مرکزی حکومت کو گھیرا ہے۔ راہل گاندھی نے مودی حکومت سے پاکستان کے خلاف کارروائی پر سوال کیا ہے۔

یہ کثیرالجماعتی وفود نہ صرف پاکستان کے اقدامات کے خلاف بھارت کے موقف کو مضبوط کریں گے بلکہ عالمی برادری کو یہ بھی دکھائیں گے کہ بھارت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحد ہے۔