Bharat Express DD Free Dish

Modi Government

ملک کے سب سے بڑے دشمن اور ممبئی دہشت گردانہ حملہ کے ماسٹر مائنڈ تہوررانا کو آج ہندوستان لایا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق، دہشت گرد تہور رانا کو ہندوستان لانے کے لئے امریکہ سے ایک خصوصی چارٹرڈ طیارہ نے اڑان بھر دی ہے۔

امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی نے کہا ’’یہ بل جس نے اب قانونی حیثیت حاصل کر لی ہے، مذہبی امتیازاورجانبداریت پرمبنی ہے، اسے اقلیتی حقوق کے لیے ایک سیاہ باب کے طور پر جانا جائے گا۔ یہ قانون ملک میں مذہبی آزادی اور آئینی حقوق پر براہ راست حملہ ہے۔

وقف ترمیمی بل کی منظوری کے بعد راہل گاندھی نے حکومت پرحملہ کرتے ہوئے اسے مسلمانوں پرحملہ قراردیا ہے اور مستقبل میں دیگر برادریوں کو نشانہ بنانے کا اندیشہ ظاہرکیا ہے۔ کانگریس سمیت کئی اپوزیشن جماعتوں نے اس بل پرسخت اعتراض کیا ہے اور سپریم کورٹ جانے کی بات کی ہے۔

وقف ترمیمی بل کو پارلیمنٹ سے منظوری ملنے کے بعد آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، ملی  تنظیمیں اورہزاروں مسلمانوں نے اس کی مخالفت کی ہے۔ وہیں آل انڈیا مسلم جماعت نے بل کی حمایت کی ہے۔

سال 1992 میں متعارف کرائی گئی "لوک ایسٹ پالیسی" کا بنیادی مقصد جنوب مشرقی ایشیا کے ساتھ معاشی تعلقات کو مضبوط کرنا تھا۔ دنیا کے بدلتے حالات کے ساتھ، وزیراعظم مودی نے 2014 میں ہندوستان کی خارجہ پالیسی میں نئی توانائی پیدا کی۔

لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں وقف ترمیمی بل پاس ہونے کے بعد مغربی بنگال میں وقف جائیداد سے متعلق بڑا تنازعہ چھڑگیا ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایڈن گارڈن، فورٹ ولیم اورعلی پورچڑیا گھرجیسے اہم مقامات وقف کا حصہ ہیں۔ مرکزی حکومت نے مغربی بنگال میں 80,548 وقف جائیداد کی جانکاری دی ہے، جن میں سے کئی کا استعمال تعلیم اورصحت کے میدان میں ہو رہا ہے۔

راجیہ سبھا میں کل دیررات وقف ترمیمی بل پرہوئی ووٹنگ میں نیا تال میل نظرآیا۔ وقف ترمیمی بل کی حمایت 128 ووٹ پڑے اور مخالفت میں 95 ووٹ پڑے جبکہ حکومت کے پاس 125 اوراپوزیشن کے پاس 88 اراکین پارلیمنٹ ہیں۔ ایسے میں آئیے آپ کو پوری تفصیل بتاتے ہیں۔

وقف ترمیمی بل، 2024 پربدھ کولوک سبھا میں ووٹنگ ہوئی۔ بل کے حق میں 288 ووٹ پڑے تومخالفت میں 232 ووٹ پڑے۔ ووٹنگ کے بعد بھی اجیت پوار کی پارٹی این سی پی کا رخ سامنے نہیں آیا ہے۔

وقف ترمیمی بل 2024 کو لوک سبھا میں اپوزیشن کی زبردست مخالفت کے درمیان منظورکرلیا گیا ہے۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی نے اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے وزیراعظم مودی پرتنقید کی ہے۔

وقف ترمیمی بل 2024 پرآج لوک سبھا میں بحث ابھی تک جاری ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ پارلیمنٹ سے قانون بننے کے بعد اسے ماننا ہی پڑے گا۔