Bharat Express DD Free Dish

Modi Government

مرکزی حکومت نے ذات پات کی مردم شماری کرانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ وہ مسئلہ ہے، جس پراپوزیشن مسلسل حکومت پرحملہ آوررہی ہے۔ اب مودی حکومت کے اعلان کے بعد لالویادو نے اس پر ردعمل ظاہرکرتے ہوئے یوپی اے کی سابقہ ​​کوششوں کا ذکرکیا ہے۔ ساتھ ہی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو ہم 30 سال پہلے سوچتے تھے، دوسرے کئی دہائیوں بعد اس پرعمل کرتے ہیں۔

مودی کابینہ نے ذات پرمبنی مردم شماری کومنظوری دے دی ہے۔ بدھ کو ہوئی سی سی پی اے کی میٹنگ میں مودی حکومت نے یہ بڑا فیصلہ لیا ہے۔ مرکزی کابینہ کے اس فیصلے کے بارے میں مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے کہا کہ یہ فیصلہ سماجی تانے بانے اور آئین میں واضح دفعات کو مدنظررکھتے ہوئے لیا گیا ہے۔

اسدالدین اویسی نے کہا کہ میں آپ سب سے اپیل کرتا ہوں کہ 30 اپریل کورات 9 بجے سے 9:15 بجے تک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے بلیک آؤٹ احتجاج کی حمایت کریں، جووقف (ترمیمی) قانون کے خلاف ہے۔

حکومت بہار کے انتخابات میں اس دہشت گردانہ حملے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرے گی۔ پاکستان میں نیہا سنگھ راٹھور کی اس پوسٹ کو لوگ شیئر کر رہے ہیں۔ وہاں کے رہنما اور حکومتی ادارے ان کے بیان کی حمایت کر رہے ہیں۔

مودی حکومت پاکستان کے خلاف سخت قدم اٹھا رہی ہے اور اپوزیشن پارٹیوں نے بھی حکومت کو سخت قدم اٹھانے کی بات کہی ہے۔راہل گاندھی سمیت اپوزیشن پارٹیوں کے تمام لیڈران نے مرکزی حکومت کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا ہے اور حکومت کے فیصلے کے  ساتھ کھڑے رہنے کی بات کہی ہے۔

حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے کہا کہ یہ بی جے پی یا کسی دیگرپارٹی کی داخلی میٹنگ نہیں ہے۔ ہم دہشت گردی اور دہشت گردوں کو پناہ دینے والے ممالک کے خلاف ایک مضبوط اور متحدہ پیغام بھیجنے کے لئے ایک آل پارٹی میٹنگ ہے۔

جموں وکشمیرکے پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کے بعد فواد خان کی فلم ’عبیرگلال‘ کی ریلیز ڈیٹ ملتوی کردی گئی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق، پاکستانی اداکارکے خلاف بڑھتی ہوئی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے میکرس نے یہ فیصلہ لیا۔

مرکزی حکومت نے ہندو فریق کے صدروشنوگپتا کے مقدمے کوخارج کئے جانے کی سفارش کی۔ مرکزی حکومت کے اقلیتی امور وزارت کی طرف سے مقدمے کی برقراری پرسوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہندو سینا کا مقدمہ سماعت کے لائق نہیں ہے۔ اس مقدمے کو خارج کردیا جانا چاہئے۔

سپریم کورٹ میں وقف ترمیمی ایکٹ کی سماعت پرآل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ نے کہا کہ ہم اس ایکٹ کو غیر قانونی مانتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ سینٹرل وقف کونسل اور اسٹیٹ وقف کونسل کی تشکیل نہیں کی جائے گی اور وقف بائی یوزر کو ہٹایا نہیں جاسکتا ہے۔

نجی عازمین حج کا کوٹہ 52,507 سے کم کرکے صرف 10,000 کردیا گیا ہے۔ اس سے ایک نازک صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ مختلف ریاستوں کے حج گروپ آرگنائزرز (HGOs) کے ایک وفد اور CHGOs کے مشترکہ حج گروپ آرگنائزرزنے وزیراعظم نریندرمودی سے فوری مداخلت کی درخواست کی ہے۔