Bharat Express DD Free Dish

Modi Government

جموں وکشمیر کے پہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ حملے میں 26 بے قصورسیاحوں کی موت کا انجام اب پاکستان بھگت رہا ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ 5مقامات پرہندوستان نے حملہ کیا ہے۔

پہلگام کے انتقام کا آغاز ہوچکا ہے۔ ہندوستان نے دہشت گردی کے خلاف 'آپریشن سندور' کو لانچ کردیا ہے۔ ہندوستانی فضائیہ نے پاکستان کے 9 ٹھکانوں پرحملہ کرکے تباہ کردیا ہے۔ ہندوستان کے آپریشن پر دہشت گردوں کو پناہ دینے والے پاکستان کا بھی بیان سامنے آیا ہے۔ 

ہندوستان نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کا بدلہ لیتے ہوئے پاکستان کے کئی دہشت گردانہ ٹھکانوں پر سرجیکل اسٹرائیک کی ہے۔  "آپریشن سندور" نام سے شروع ہوئے اس آپریشن میں مظفرآباد، کوٹہلی اور بہاول پور جیسے مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ پاکستانی میڈیا نے بھی دھماکوں کی تصدیق کی ہے۔

معروف دانشور، ماہرتعلیم اورسیاست داں کلیم الحفیظ نے پاکستان کے خلاف ہندوستانی حکومت کی طرف سے کی گئی مختلف طرح کی کارروائی پرجواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ سب ٹھیک ہے، لیکن یہ ناکافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کارروائیوں سے ابھی کچھ اثرنہیں ہوگا۔ پاکستان کواسی کی جواب میں آپ کو جواب دینا ہوگا۔

ہندوستانی حکومت پاکستان کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر 244 اضلاع میں ہوائی حملے سے بچاؤ کی ماک ڈرل منعقد کرنے والی ہے۔ اس ڈرل کا مقصد شہریوں کو ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے لئے ٹریننگ دینا چاہتی ہے۔ ڈرل میں سائرن ٹسٹ، بلیک آؤٹ مینجمنٹ کی پریکٹس شامل ہیں۔ حکومت کا مقصد شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت کو بڑھانا ہے۔

پہلگام دہشت گردانہ حملہ سے متعلق معروف دانشور ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے کہا کہ پاکستان نے حملہ کرایا، اس کا جواب تو دینا ہی چاہئے، لیکن ہمارے ملک کی حکومت کی ناکامی کے لئے وزیرداخلہ امت شاہ کو ذمہ داری لیتے ہوئے معافی مانگنی چاہئے۔

مولانا عبیداللہ خان اعظمی نے سوال کیا کہ اگر دہشت گردوں نے مذہب پوچھ کرلوگوں کومارا توکیا ہندوستان کے مسلمان ان کی مدد کے لئے کھڑے نہیں ہوئے؟ پھرمسلمانوں کی ایسی شبیہ کیوں بنائی جا رہی ہے۔

مودی حکومت نے ہندوستان کی جانب سے آئی ایم ایف میں ایگزیکٹو ڈائریکٹرکے عہدے پرتعینات ڈاکٹرکرشنا مورتی سبرامنیم کی خدمات ختم کردی ہیں۔ یہ فیصلہ پاکستان کو دی جانے والی مالی سہولیات کے حوالے سے آئی ایم ایف بورڈ کے ایک اہم جائزہ اجلاس سے عین قبل کیا گیا ہے۔

بھارت نے درآمدات پر پابندی کے اپنے فیصلے کے ذریعے واضح کیا ہے کہ جب تک پاکستان دہشت گردی کی حمایت جاری رکھے گا، تب جب تک اس سے کسی بھی طرح کے تعلقات  چاہے وہ تجارتی ہو یا سفارتی۔

وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں پرسماعت جاری ہے۔ جمعہ کوسپریم کورٹ نے نئی درخواستوں پرغورکرنے سے انکارکردیا۔ دوسری طرف مسلم فریق کی جانب سے حلف نامہ داخل کیا گیا۔ اس سے قبل مرکزی حکومت نے جوابی حلف نامہ داخل کیا تھا۔ اب اس کیس کی اگلی سماعت 5 مئی کوہوگی۔