نئی دہلی: پاکستان سے کشیدگی کے درمیان ملک کے 244 اضلاع میں بدھ کوماک ڈرل ہوگی۔ 22 اپریل کوپہلگام میں دہشت گردانہ حملے کے بعد پاکستان سے بڑھتی کشیدگی کے درمیان وزارت داخلہ نے یہ فیصلہ لیا ہے۔ ماک ڈرل کے دوران شہریوں کوہوائی حملے سے بچنے کے اقدامات کے بارے میں بتایا جائے گا۔
ڈرل کے دوران سائرن بھی بجیں گے۔ مرکزی حکومت نے تمام شریک ریاستوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنی انخلاء کی حکمت عملیوں پرنظر ثانی کریں اوراس بات کویقینی بنائیں کہ مکمل مشق کومؤثرطریقے سے انجام دیا جائے۔ مشق کے دوران اٹھائے جانے والے اقدامات میں فضائی حملے کے وارننگ سائرن چلانا اورشہریوں کوکسی بھی حملے کی صورت میں اپنی حفاظت کے لیے حفاظتی پہلوؤں پرٹریننگ یا تربیت دینا شامل ہے۔ دیگراقدامات میں کسی حادثے کی صورت میں بلیک آؤٹ اقدامات، اہم پلانٹس اورتنصیبات کا تحفظ اورانخلاء کے منصوبوں کواپ ڈیٹ اورپریکٹس کرنا شامل ہیں۔ موک ڈرل سے ایک دن پہلے منگل کو وزارت داخلہ میں ایک میٹنگ ہوئی، جس میں اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ لوگوں کوکس طرح تربیت دی جائے۔
ماک ڈرل میں اس بات پر توجہ رہے گی
- بلیک آؤٹ حالات میں کیا کریں
- رین فرسٹ ایڈ کی تیاری
- ٹارچ گھرمیں ہو
- موم بتی ضرور رکھیں۔
- الیکٹرانک فیلیئر کی صورتحال سے بچنے کے لئے نقد رکھیں
- تقریباً 244 مقامات ایسے ہیں جو انتہائی حساس ہیں۔
ماک ڈرل میں کیا کیا ہوگا؟
ہوائی حملے کا اشارہ کرنے والے سائرن عام شہریوں کو ٹریننگ، شہروں میں اچانک بجلی بند ہوجائے گی، فوج کے ٹھکانوں اور پاور پلانٹ جیسے اہم مقامات کو پوشیدہ کردیا جائے گا۔
کیا کرنے سے بچیں؟
ہوائی حملے کی وارننگ کے دوران باہریا کھڑکیوں کے پاس جانے سے بچیں۔ اس کے بجائے گھرکے اندررہیں، گھروں کی لائٹ کوبند کر دیں۔ سبھی دروازے اورکھڑکیاں بند کرنا اورہدایات کے لئے ریڈیویا ٹی وی دیکھ کرخود کوالرٹ رکھنا بھی اہم ہے۔ اگرآپ سائرن سنتے ہیں تو ضروری احتیاط برتیں۔ جب تک احکامات نہ دیئے جائیں تب تک اپنے محفوظ مقام کو نہ چھوڑیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

