اسدالدین اویسی نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی اپیل پر بڑی اپیل کی ہے۔
نئی دہلی: وقف (ترمیمی) قانون کے خلاف آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (اے آئی ایم پی ایل بی) نے احتجاج کا ایک نیا طریقہ متعارف کرایا ہے۔ اس کے تحت آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے عوام سے ’لائٹ آف‘ یعنی بتی بند کرکے احتجاج کرنے کی اپیل کی ہے۔ اس اقدام کی حمایت میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدراسدالدین اویسی نے بھی ایک بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ لوگ 30 اپریل کی رات 9 بجے سے 9:15 بجے تک 15 منٹ کے لئے گھروں کی لائٹیں بند رکھیں۔
اسدالدین اویسی نے کہا کہ میں آپ سب سے اپیل کرتا ہوں کہ 30 اپریل کورات 9 بجے سے 9:15 بجے تک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے بلیک آؤٹ احتجاج کی حمایت کریں، جووقف (ترمیمی) قانون کے خلاف ہے۔ حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اویسی نے مزید کہا کہ آپ سے درخواست ہے کہ مذکورہ وقت کے دوران اپنے گھروں کی بتی بند رکھیں تاکہ ہم وزیراعظم نریندرمودی کی حکومت کویہ پیغام دے سکیں کہ نیا قانون آئین، بنیادی حقوق، آرٹیکل 14، 15، 25، 26 کی خلاف ورزی ہے اوریہ خاص طورپروقف بورڈزمیں مداخلت کے مترادف ہے۔
سپریم کورٹ میں 5 مئی کوسماعت
نئے وقف قانون کے خلاف سپریم کورٹ میں کئی درخواستیں دائرکی گئی تھیں۔ عدالت نے 16 اور17 اپریل کوان درخواستوں پرابتدائی سماعت کی تھی، جس کے دوران مرکزکی مودی حکومت نے جواب دینے کے لئے 7 دن کا وقت مانگا تھا۔ حکومت نے اب جواب داخل کردیا ہے اور اس معاملے کی اگلی سماعت 5 مئی کوہوگی۔
سنجیو کھنہ کی قیادت میں ہوگی
قابل ذکرہے کہ گزشتہ سماعت میں چیف جسٹس آف انڈیا سنجیوکھنہ کی قیادت والی بینچ نے وقف بائی یوزر، ضلع کلکٹرکواضافی اختیارات دیئے جانے اورغیرمسلموں کووقف بورڈ میں شامل کرنے سے متعلق دفعات پرسوالات اٹھائے تھے۔ اس کے بعد مرکزی حکومت نے اپنا جواب داخل کردیا ہے۔ اب معاملے کی سماعت 5 مئی کو ہونی ہے، تب عدالت کا فیصلہ کیا ہوتا ہے، وقف قانون سے متعلق صورتحال واضح ہوسکے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
