Bharat Express DD Free Dish

Modi Government

وقف ترمیمی بل پرلوک سبھا میں بحث کے دوران آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے لیڈراور رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے بل کی کاپی کوپھاڑ دیا۔ انہوں نے احتجاج کے طورپربل کی کاپی کو پھاڑا ہے۔ اویسی نے کہا کہ حکومت کی منمانی ہے اوریہ بل پوری طرح سے غیر آئینی ہے۔

لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے وقف ترمیمی بل پر بحث کے لئے 8 گھنٹے کا وقت طے کیا ہے۔ حالانکہ اپوزیشن نے بحث کے لئے 12 گھنٹے کا وقت مانگا ہے۔ اس پر مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امورکرن رجیجو کا کہنا ہے کہ بحث کا وقت بڑھایا جا سکتا ہے۔

وقف ترمیمی بل 2024 سے متعلق آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ نے سخت اعتراض ظاہرکیا ہے۔ بورڈ کا ماننا ہے کہ یہ بل مسلمانوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے اور وقف جائیداد پر حکومت کا کنٹرول بڑھاتا ہے۔ بل کی مخالفتم یں 5 کروڑ سے زیادہ ای-میل بھیجے گئے ہیں، لیکن حکومت نے کوئی توجہ نہیں دیا ہے۔

وقف ترمیمی بل 2024 لوک سبھا میں پیش کیا جائے گا۔ بل پربحث کے لئے 8 گھنٹے کا وقت متعین کیا گیا ہے۔ راجیہ سبھا میں کل یعنی جمعرات کو اس بل پر بحث کے لئے 8 گھنٹے کا وقت دیا گیا ہے۔ تاہم اپوزیشن پارٹیاں پوری طرح سے اس بل کے خلاف ہیں اوروہ ایوان کے اندراور باہرہنگامہ کر رہی ہیں۔

جے پی سی کی رپورٹ آنے کے بعد کابینہ پہلے ہی اس بل کو منظوری دے چکی ہے۔ اسے گزشتہ سال 8 اگست 2024 کو پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے لوک سبھا میں پیش کیا تھا۔

نریندر مودی حکومت کی فعال کوششوں کی وجہ سے بیرون ملک قید 10,000 سے زیادہ ہندوستانی شہریوں کو مختلف ممالک نے معاف یا رہا کر دیا ہے۔

یہ مہنگائی کا پیمانہ ہے، جس کی بنیاد پر ڈی اے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ یہ وزارت محنت کے تحت لیبر بیورو کے ذریعہ جاری کیا جاتا ہے۔

سابق رکن پارلیمنٹ کنور دانش علی نے کہا کہ وقف ترمیمی بل 2024 مسلمانوں کے خلاف ہے، اس کو کسی بھی صورت میں قبول نہیں کیا جاسکتا۔ حکومت مسلمانوں کے اوروقف جائیداد پرقبضہ کرنا چاہتی ہے، اس لئے وہ زبردستی ایسے قانون بنا رہی ہے تاکہ وقف کی املاک پراس کا کنٹرول ہوجائے۔

جمہوریت میں مخالفت درج کرانے کے لئے احتجاج کا راستہ کھلا رہتا ہے۔ جے ڈی یو اور ٹی ڈی پی کی حمایت کے بغیر وقف ترمیمی بل کو منظور کرانا آسان نہیں ہوگا۔ لیکن مسلم پرسنل لا بورڈ کو ان دونوں ہی پارٹیوں کی طرف سے کوئی مثبت یقین دہانی نہیں کرایا جانا اس بات کی علامت ہے کہ یہ مودی حکومت کے ساتھ ہیں۔

وقف ترمیمی بل 2024 کی مخالفت میں دارالحکومت دہلی واقع جنترمنترپرآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی قیادت میں منعقدہ احتجاجی مظاہرہ میں معروف شیعہ عالم دین اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدر مولانا کلب جواد نے بھی شرکت کی۔