ٹی ایم سی کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا۔ (فائل فوٹو)
نئی دہلی: وقف (ترمیمی) ایکٹ، 2025 کے قانونی جواز سے متعلق کئی اراکین پارلیمنٹ کی طرف سے سپریم کورٹ میں مسلسل چیلنج دیا جا رہا ہے۔ اب اس فہرست میں ایک اورنام جڑگیا ہے۔ مغربی بنگال کی کافی فعال اورسرگرم رکن پارلیمنٹ اورترنمول کانگریس لیڈرمہوا موئترا نے وقف ترمیمی قانون کو چیلنج دیتے ہوئے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔
وقف ایکٹ کے خلاف ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا بھی پہنچیں سپریم کورٹ، اپنی عرضی میں لگائے کئی الزام
اس درمیان، چیف جسٹس آف انڈیا سنجیوکھنہ، جسٹس سنجے کماراورجسٹس کے وی وشوناتھن کی تین ججوں کی بینچ نے قانون کی درستگی سے متعلق چیلنج دینے والی اے آئی ایم آئی ایم لیڈراسدالدین اویسی کی عرضی سمیت 10 دیگرعرضیوں پر آئندہ ہفتے 16 اپریل کو سماعت کے لئے فہرست تیارکی ہے۔
مہوا موئترا کی عرضی کے ذریعہ کئی سنگین الزام
ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا سے پہلے اترپردیش کے سنبھل سے سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمٰن برق نے بھی حال ہی میں وقف کے موضوع پرہی سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی تھی۔ 9 اپریل کو سپریم کورٹ میں اپنی عرضی داخل کرنے والی مہوا موئترا نے کہا کہ متنازعہ وقف ترمیمی قانون میں نہ صرف سنگین خامیاں ہیں بلکہ آئین میں درج کئی بنیادی حقوق کی بھی سنگین خلاف ورزی کرتی ہے۔ درخواست کے مطابق، “یہ پیش کیا گیا ہے کہ قانون سازی کے عمل کے دوران پارلیمانی طریقہ کارکی خلاف ورزی نے وقف (ترمیمی) ایکٹ، 2025 کی غیرآئینی حیثیت میں تعاون کیا ہے۔”
عرضی کے مطابق، جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی (جے پی سی) کے چیئرمین جگدمبیکا پال نے وقف ترمیمی پر جے پی سی کی مسودہ رپورٹ پر غور کرنے، اپنانے کے مرحلے میں اور پارلیمنٹ کے سامنے مذکورہ رپورٹ کو پیش کرنے کے مرحلے میں پارلیمانی ضوابط اور روایات کی خلاف ورزی کی ہے۔
آئین کے جذبات کی خلاف ورزی: مہوا موئترا
عرضی میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ اپوزیشن کے اراکین پارلیمنٹ کی اختلافی رائے کو مبینہ طور پر13 فروری کو پارلیمنٹ میں پیش حتمی رپورٹ سے بغیرکسی جواز کے ہٹا دیا گیا۔ اس طرح کی کارروائیوں نے پارلیمنٹ کے تبادلہ خیال کو کمزور کردیا اور سرکاری پارلیمانی طریقہ کارکے قواعد میں مذکور قائم کردہ اصولوں کی بھی کھلم کھلا خلاف ورزی کی گئی۔ عرضی میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نیا قانون مبینہ طور پر آئین کے آرٹیکل 4, 15(1), 19(1) (اے) اور (سی) 21, 25 اور 26, 29 اور 30 اور آرٹیکل 300 اے کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے طریقہ کارکے معاملات میں بے ضابطگیوں اورآئین کی بنیادی خلاف ورزیوں کا حوالہ دیتے ہوئے اس قانون کومکمل طورپرمنسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


