Bharat Express DD Free Dish

Mahua Moitra

کانگریس آج ملک بھر میں الیکشن کمیشن کے دفاتر تک احتجاجی مارچ نکالے گی۔ وہیں بہار کے تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز میں آج آر جے ڈی کی جانب سے احتجاج کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی اپوزیشن سی ای سی کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ٹی ایم سی کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے میں شکایت درج کرائی ہے۔

ٹی ایم سی کی رکن پارلیمنٹ نے انتخابی کمیشن کے فیصلوں میں طریقۂ کار کی مبینہ خلاف ورزی کا الزام لگایا، فارم 6 اور ووٹر فہرست کے انتظام پر بھی سوال اٹھائے

۔مہوا موئترا نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف بی جے پی حکومت برکس سربراہی اجلاس میں نماز کے لیے کمرہ بنا کر اپنی سیکولر شبیہ پیش کر رہی ہے، تو دوسری طرف ایک مسلم خاتون آئی پی ایس افسر ڈاکٹر بشریٰ بانو کو صرف ’السلام علیکم‘انشاء اللہاور ’جزاک اللہ‘ کہنے پر کنارے کر دیا گیا۔

ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے کہا کہ توڑ پھوڑ سے پہلے ان لوگوں نے سکیورٹی گارڈ سے موبائل فون چھین لیا اور لوہے کی سلاخ دکھا کر اسے دھمکی دی۔ اس کے بعد یہ لوگ دفتر میں داخل ہوئے اور جم کر توڑ پھوڑ کی۔

مقامی عدالت نے مبینہ نفرت انگیز تقریر کے معاملے میں ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا ہے۔ رکن پارلیمنٹ نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، نوجوانوں اور بھارت کے فوجیوں کے خلاف قابلِ اعتراض بیانات دیے تھے۔

مہوا موئترا نے کہا کہ سب کو یہ سمجھنا ہوگا کہ مغربی بنگال ہندوستان کا حصہ ہے، جہاں آئین کی حکمرانی چلتی ہے۔ ان کے مطابق ریاست میں بھی قانون کی بالادستی ہونی چاہیے، جہاں ہر ملزم کو عدالتی کارروائی میں شامل ہونے اور قانون کے مطابق سزا پانے کا پورا حق حاصل ہو، چاہے اس پر کتنا ہی سنگین الزام کیوں نہ ہو۔

مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے نتائج آنے کے بعد متعدد ترنمول کانگریس لیڈران پر انڈے پھینکے جانے کے واقعات سامنے آئے تھے۔ اب ٹی ایم سی کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے بھی اسی نوعیت کا الزام عائد کرتے ہوئے پولیس سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

 ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے پارٹی کے 65 باغی اراکین اسمبلی سے استعفیٰ دینے اور نیا مینڈیٹ مانگنے کی اپیل کی ہے۔ آپ کو بتا دیں کہ باغی اراکین کے ذریعہ عرضی داخل کرکے انہیں اصلی ٹی ایم سی کے طورپر منظوری دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ مہدی نے دعویٰ کیا کہ پارلیمنٹ کے گزشتہ سرمائی اجلاس کے دوران بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اچانک وہ اپنی سیٹ پر واپس آگئے تھے۔ اس کے آگے انہوں نے جو کچھ بتایا، وہ معاملہ کافی حیران کن ہے۔

باغی ارکان کے حوالے سے مہوا موئترا نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر فرض کر لیا جائے کہ ان کے پاس 20 ارکانِ پارلیمنٹ بھی ہیں، تب بھی انہیں حاصل کیا ہوگا؟ وہ صرف الگ نشستوں پر بیٹھ سکتے ہیں، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔