Bharat Express DD Free Dish

Mahua Moitra

ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ کے خلاف قابل اعتراض تبصرہ کیا ہے، جس میں انہوں نے وزیرداخلہ کا سرکاٹ کرمیزپررکھنے کی بات کی ہے۔ یہ بیان مغربی بنگال میں غیرقانونی دراندازی کے حوالے سے دیا گیا ہے۔ مہوا موئترا نے بارڈرسیکورٹی فورسیزکے کردارپربھی سوال اٹھائے ہیں۔ اس بیان کے بعد سیاسی تنازعہ مزید گہرا ہوگیا ہے۔

لوک سبھا کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔ سوال و جواب کے دوران اپوزیشن کے اراکین مسلسل نعرے بازی کرتے رہے اور کچھ ممبران ویل تک آ گئے۔ ا

مہوا موئترا اور کلیان بینرجی کے درمیان جاری اس لفظی جنگ نے ٹی ایم سی قیادت کے لیے ایک چیلنج کھڑا کر دیا ہے، کیونکہ دونوں ہی پارٹی کے اہم چہروں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ ابھی تک پارٹی قیادت کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

ٹی ایم سی رہنما مہوا موئترا نے بی جے پی رہنما کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا، ’’بنچ کو ڈرانے کی بے شرم کوشش۔ ہندوستان سب سے نچلے دور میں ہے جب جاہل غنڈوں کے ذریعہ حکمرانی کی جا رہی ہے۔‘‘

اے آئی ایم آئی ایم سربراہ اسدالدین اویسی، کانگریس رکن پارلیمنٹ محمد جاوید، مولانا ارشد مدنی، آرجے ڈی لیڈرمنوج جھا، اوکھلا کے ایم ایل اے امانت اللہ خان، ایسوسی ایشن فاردی پروٹیکشن آف سول رائٹس، آل کیرل جمعیۃ العلماء، انجم  قادری، طیب خان سلمانی، محمد شفیع وغیرہ نے عدالت میں عرضی داخل کی ہے۔

لوک سبھا سے منظور شدہ وقف ترمیمی بل کو ’’غیر منصفانہ‘‘ قرار دیتے ہوئے ترنمول کانگریس لیڈر مہوا موئترا نے جمعرات کو کہا کہ یہ ہندوستان کی سیکولر جمہوریت میں ایک ’’سیاہ دن‘‘ ہے۔

مہوا موئترا کے بیان پر ایوان میں کافی ہنگامہ ہوا۔ اپنا اعتراض درج کراتے ہوئے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے نے کہا کہ مہوا موئترا کے بیانات قابل اعتراض ہیں۔

جے شاہ آئی سی سی میں سینئر عہدے پر فائز ہونے والے پانچویں ہندوستانی ہیں۔ اس سے پہلے این سری نواسن (2014–15) اور ششانک منوہر (2016–2020) نے آئی سی سی کے چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دی ہیں، جب کہ جگموہن ڈالمیا (1997–2000) اور شرد پوار (2010–2012) آئی سی سی کے صدر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ  ترنمول کانگریس ایم پی مہوا موئترا نے کہا کہ اصلی اڈانی انداز میں، SEBI کے چیئرمین بھی اپنے گروپ میں سرمایہ کار ہیں۔ کرونی سرمایہ داری اپنے عروج پر ہے۔ موئترا نے مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) سے منی لانڈرنگ کی مبینہ تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔

مہوا نے کہا کہ جب بھی ہم بولتے ہیں تو وزیر اعظم نریندر مودی چلے جاتے ہیں۔ آج بجٹ پر بول رہے ہیں تو وزیر خزانہ نرمتا سیتا رمن چلی گئیں۔ ہمیں اس سے دکھ ہوا ہے اور اس کا نوٹس لیا جانا چاہیے۔