Bharat Express DD Free Dish

Mathura Shahi Eidgah Case

سپریم کورٹ نے 21 سے 23 اگست کے درمیان ”سمادھان سماروہ“ (لوک عدالت) کے نام سے منعقد ہو رہے لوک عدالت پروگرام کے لئے ان معاملوں کے فریق کو بھی نوٹس بھیجا تھا، لیکن سبھی نے نا اتفاقی ظاہر کی ہے۔ سپریم کورٹ نے 21 سے 23 اگست تک منعقد ہونے والے ”سمادھان سماروہ“ (لوک عدالت) پروگرام کے لئے ان مقدمات کے فریقوں کو بھی نوٹس بھیجا تھا، تاہم سبھی نے ثالثی کے ذریعہ معاملے کو حل کرنے سے انکارکر دیا۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدرمولانا محمود مدنی کی طرف سے جاری بیان میں لکھا گیا ہے کہ مختلف میڈیا چینلوں نے نیوزایجنسی اے این آئی کے حوالے سے بعض اخبارات میں یہ خبرشائع کی ہے کہ مولانا محمود اسعد مدنی نے اپنے انٹرویومیں کہا ہے کہ ’’گیان واپی مسجد یا متھرا شاہی جامع مسجد کے سلسلے میں دونوں کمیونٹی کے لوگ آپس میں بیٹھ کربات کریں۔‘‘ یہ خبر سراسر بے بنیاد اورغلط ہے۔

ہندو فریق کی طرف سے الہ آباد ہائی کورٹ میں داخل کی گئی عرضی خارج کردی گئی ہے۔ عدالت نے متھرا شاہی عیدگاہ کو ’متنازعہ ڈھانچہ‘ماننے سے انکار کردیا ہے۔ اس سے مسلم فریق کو بڑی راحت ملی ہے۔

5 مارچ کو الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک ہندو مدعی کی طرف سے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا اور مرکز کو فریقین کے طور پر شامل کرنے کی درخواست پر اس کی اجازت دی دی تھی۔

متھرا کے شاہی عیدگاہ اورکرشن جنم بھومی تنازعہ پرسپریم کورٹ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پررضامندی ظاہرکی ہے، جس میں سبھی کیسیزکی ایک ساتھ سماعت کی بات کہی گئی تھی۔ عدالت اس معاملے میں یکم اپریل کوسماعت کرے گا۔ تبھی ایک ساتھ ہونے والی سماعت پرفیصلہ ہوسکے گا۔

سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں متعدد عرضیاں ایسی دائر کی جاچکی ہیں جن میں ورشپ ایکٹ 1991 کو چیلنج کیا گیا ہے اور اس کو ہندووں کے ساتھ ناانصافی سے تعبیر کرتے ہوئے اس پر قانونی چارہ جوئی کی اپیل کی ہے۔

متھرا تنازعہ سے متعلق 18 عرضیوں کی الہ آباد ہائی کورٹ میں سماعت ہو رہی ہے۔ درخواستوں میں متنازعہ جگہ کو ہندوؤں کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، ہائی کورٹ میں دائر درخواستوں میں آج فیصلہ ہونا ہے۔

متھرا کے شاہی عیدگاہ معاملے میں سپریم کورٹ میں آج سماعت ہوئی۔ سپریم کورٹ نے مسلم فریق کی ایک عرضی پرسماعت ہوئی۔ حالانکہ عدالت نے نہ تو راحت دی ہے اور نہ ہی کوئی فیصلہ سنایا ہے۔

ہائی کورٹ نے مسلم فریق کے اس استدلال کو مسترد کر دیا تھا کہ کرشن جنم بھومی مندر سے متصل شاہی عیدگاہ مسجد کمپلیکس کے تنازعہ سے متعلق ہندو وکیلوں کے دائر کردہ مقدمے ورشپ (خصوصی دفعات) ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور اس لیے وہ قابل قبول نہیں ہیں۔

سپریم کورٹ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے ذریعہ 14 دسمبر 2023 کو شاہی عیدگاہ مسجد کمپلیس کا سروے کرنے کے حکم پر روک لگا دی تھی۔