Bharat Express DD Free Dish

Lok Sabha Election 2024

وزیراعظم مودی نے کہا کہ سبھی اراکین پارلیمنٹ اپنے حلقوں میں جاکر مستفضین سے رابطہ کریں اور لوگوں کو سرکاری اسکیموں کے بارے میں بتائیں۔ سال 2024 میں ہونے والے لوک سبھا الیکشن کے لئے کمربستہ ہوجائیں۔

جماعت اسلامی ہند کے نائب امیرپروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ ملک کی سیاست  کے مسلسل گرتے ہوئے معیاراورجمہوری واخلاقی اقدارکی پامالی پرقرارداد کی توضیح کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ"حکومت الیکشن بانڈزکے نظام کو شفاف بنائے اورالیکشن کے دوران سرمایے کے بے تحاشہ استعمال کو روکنے کے  لئے موثرنظام اورقوانین وضع  کئے جائیں۔

بالی ووڈ اداکارہ مادھوری دکشت 2024 کا لوک سبھا الیکشن لڑیں گی۔ حالانکہ اس سے متعلق ابھی تک آفیشیل جانکاری سامنے نہیں آئی ہے۔

سماج وادی پارٹی نے یہاں سے دھرمیندر یادو کو ضمنی انتخاب میں اتارا تھا۔ وہیں دنیش لال یادو نے بی جے پی سے دوبارہ الیکشن لڑا۔ اس الیکشن میں بی جے پی امیدوار نے دھرمیندر یادو کو انتہائی قریبی مقابلے میں شکست دی تھی۔

2019 کے لوک سبھا انتخابات میں راہل گاندھی کو اپنی پرانی سیٹ امیٹھی سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ انہیں بی جے پی کی اسمرتی ایرانی نے شکست دی تھی۔ لیکن کانگریس یوپی کے سربراہ اجے رائے نے حال ہی میں کہا تھا کہ راہل گاندھی 2024 کا لوک سبھا الیکشن دوبارہ امیٹھی سے لڑیں گے۔

لوک سبھا انتخابات 2024  کے پیش نظر بی جے پی سے اتحاد کرنے سے متعلق جے ڈی ایس میں ٹوٹ کا اشارہ دیتے ہوئے پارٹی کے ریاستی صدر سی ایم ابراہیم نے کہا کہ وہ اس اتحاد کو نہیں مانتے۔

اکھلیش یادو نے حال ہی میں واضح کیا تھا کہ اس بار سماج وادی پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم کی پوزیشن میں ہوگی۔ اس کا مطلب ہے کہ یوپی کی 80 لوک سبھا سیٹوں پر اتحادی جماعتوں کے لیڈروں کو ٹکٹ دینے میں ایس پی اہم رول ادا کرنے جا رہی ہے۔

بی جے پی نے دلت کانفرنس میں دانشوروں کے لوگوں کو الگ سے مدعو کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ کارکنوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ہر بوتھ پر دلت برادری کے پانچ روشن خیال لوگوں سے رابطہ کریں۔

Imran Masood News: عمران مسعود کو کانگریس کے تنظیمی جنرل سکریٹری کے سی وینو گوپال نے رکنیت دلائی۔ بی ایس پی نے راہل گاندھی کی تعریف کرنے پر عمران مسعود کو ڈسپلن شکنی کے الزام میں پارٹی سے نکال دیا تھا۔

ورون گاندھی نے کہا کہ مجھے میرے آباؤ اجداد نے سکھایا، جب پنڈت نہرو پہلی بار وزیر اعظم بنے، مولنکن لوک سبھا کے اسپیکر تھے، اس وقت شرومنی اکالی دل کے صدر حکم سنگھ جی تھے۔ حکم سنگھ جی نے لوک سبھا میں پنڈت نہرو کو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ وہ صحیح آدمی نہیں ہیں، لیکن نہرو جی سنتے رہے۔