Bharat Express DD Free Dish

Lok Sabha Election 2024

سماجوادی پارٹی لوک سبھا الیکشن 2024 کے نتائج کے بعد ملک کی تیسری سب سے بڑی پارٹی بن کرابھری ہے۔ پارٹی کو37 سیٹوں پرجیت ملی ہے۔

دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اکھلیش یادواپنی لوک سبھا رکنیت برقراررکھیں گے۔ اکھلیش یادو کے کرہل سے استعفیٰ دینے کے بعد اس سیٹ سے کون الیکشن لڑے گا، ابھی اس پرآخری فیصلہ نہیں ہوا ہے۔

لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر بننے کے لیے 10 فیصد سے زیادہ سیٹیں ہونا ضروری ہے۔ 2014 میں کانگریس نے 44 سیٹیں جیتی تھیں اور 2019 میں اس نے 52 سیٹیں جیتی تھیں لیکن اس بار پارٹی نے 99 سیٹیں جیتی ہیں۔ ایسے میں راہل گاندھی کے ایل او پی بننے کا سب سے زیادہ امکان ہے۔

ٹی ڈی پی ذرائع نے بتایا ہے کہ پارٹی نے چھ بڑی وزارتوں کا مطالبہ این ڈی اے کے سامنے رکھا ہے۔ ٹی ڈی پی لوک سبھا اسپیکر کا عہدہ بھی چاہتی ہے۔ پارٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ ہر چیز پر ٹی ڈی پی کا موقف لچکدار ہے۔

پرینکا گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ، "یوپی کانگریس میں میرے تمام ساتھیوں کو میرا سلام۔ میں نے آپ کو دھوپ اور دھول میں سخت محنت کرتے دیکھا، آپ نہیں جھکے، آپ نہیں رکے، آپ نے مشکل سے مشکل وقت میں لڑنے کی ہمت دکھائی۔

صحافی کا مزید کہنا تھا کہ بھارت نے مغرب کے ساتھ مضبوط تعلقات کا مظاہرہ کیا ہے۔ جس سے میل نہیں کھاتا۔ اب مغرب کے ساتھ تنازعات بڑھنے کا امکان ہے۔

جے ڈی یو ذرائع کے حوالے سے خبر ہے کہ نتیش کمار نے تین وزارتوں کا مطالبہ کیا ہے۔ بہار کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے کے ساتھ ساتھ انہوں نے چار ممبران پارلیمنٹ کے لیے ایک وزارت کا فارمولہ حکومت کے سامنے رکھا ہے۔

کانگریس امیدوار رقیب الحسین نے آسام کی دھوبری لوک سبھا سیٹ پر آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (AIUDF) کے سپریمو بدرالدین اجمل کو 10,12,476 ووٹوں کے ریکارڈ فرق سے شکست دی۔

لوک سبھا الیکشن 2024 سے پہلے جن لوگوں نے آخری وقت میں پارٹی بدلی تھی، ان کے لئے یہ الیکشن بری خبرلے کرآیا۔ پارٹی بدلنے والے اکثرلیڈران کوہارکا سامنا کرنا پڑا ہے۔

نتیش کمار اور چندرا بابو نائیڈو نے میٹنگ میں حمایتی خط سونپ دیا ہے۔ ایسے میں اب یہ ممکن ہے کہ این ڈی اے کے لیڈران حکومت بنانے کا دعویٰ آج پیش کریں۔