Bharat Express DD Free Dish

Jayant Chaudhary

اپنے دو مدت کار کے دوران، مودی حکومت نے بھارت رتن حاصل کرنے والوں کے انتخاب میں ہوشیاری کا مظاہرہ کیا ہے۔ پنڈت مدن موہن مالویہ اور اٹل بہاری واجپئی سے لے کر پرنب مکھرجی، بھوپین ہزاریکا، اور نانا جی دیش مکھ تک، ہر ایک نے سیاسی پیغام دیا ہے۔

چودھری کی تقریر پر اعتراض کرنے کا کانگریس پارٹی کا فیصلہ ایک پریشان کن پیغام دیتا ہے۔ ایسے وقت میں جب حکمراں جماعت کے غلبے کو متوازن کرنے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کے درمیان اتحاد بہت ضروری ہے، یہ واقعہ کانگریس کی حکمت عملی پر سوال اٹھاتا ہے۔

پارلیمنٹ میں رام مندر پر بحث پر لوک سبھا کے رکن دانش علی نے کہا کہ ، "اس حکومت کے پاس گزشتہ 10 سالوں میں بے روزگاری، معیشت اور سرحدی سیکورٹی کی صورتحال پر کہنے کو کچھ نہیں ہے۔"

اوم پرکاش راج بھر نے کہا، '' سماج وادی پارٹی بھی کسی کی عزت نہیں کرتی ہے۔ اگر وہ ایک انگلی دوسری طرف اٹھاتا ہے تو چار انگلیاں اس کی طرف اٹھتی ہیں۔

جینت چودھری جب لوک سبھا میں بولنے کیلئے کھڑے ہوئے تو کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے انہیں منع کردیا اور بیٹھا دیا جس سے وہ کافی ناراض ہوگئے اور انہوں نے پھر اپنی باری پر اپنے خطاب میں کانگریس یہ الزام لگایا کہ انہوں نے میری بے عزتی کی ہے۔ کانگریس کو ایسا نہیں کرنا چاہیے۔

جینت چودھری سے پوچھا گیا کہ کیا وہ بی جے پی کے ساتھ جائیں گے؟ اس پر اس نے کہا کہ میں کس منہ سے انکار کروں۔ انھوں نے کہا، 'یہ میرے لیے ایک جذباتی اور یادگار لمحہ ہے۔

مرکز کی مودی حکومت نے ملک کے سابق وزیراعظم چودھری چرن سنگھ کو بھارت رتن دینے کا اعلان کیا ہے۔ اب اس پرجینت چودھری نے پہلا ردعمل ظاہرکیا ہے۔

آر ایل ڈی کے سربراہ جینت چودھری کے این ڈی اے میں شامل ہونے کے معاملے پر سماج وادی پارٹی کے لیڈر سوامی پرساد موریہ نے کہا، ’’اگر کوئی جھوٹ بولنا چاہتا ہے تو اسے بی جے پی سے سیکھنا چاہیے۔،

سماج وادی پارٹی کا دعویٰ ہے کہ آر ایل ڈی آئندہ لوک سبھا انتخابات میں ان کے ساتھ ہے۔ پارٹی کے جنرل سکریٹری شیو پال سنگھ یادو نے بدھ کو آر ایل ڈی کے بی جے پی کے ساتھ ہاتھ ملانے کی خبروں کو یکسر مسترد کر دیا۔

سماجوادی پارٹی کے لیڈر شیوپال سنگھ یادو نے آرایل ڈی لیڈر جینت چودھری سے متعلق نیا دعویٰ کیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ آرایل ڈی اب این ڈی اے میں شامل ہوسکتی ہے۔