Bharat Express DD Free Dish

Jayant Chaudhary

لوک سبھا انتخابات میں این ڈی اے کو تیسری بار اقتدار میں آنے سے روکنے کے لیے بنایا گیا انڈیا الائنس مسلسل بکھرتا جا رہا ہے۔

کانگریس یوپی میں کم ازکم 20 فیصد یعنی 16 سیٹوں پرالیکشن لڑنا چاہتی ہے، اس لئے پارٹی ابھی اکھلیش یادو کو منانے میں مصروف ہے۔ جبکہ آرایل ڈی کے لیڈران کے مطابق سماجوادی پارٹی نے ان کی پارٹی کو باغپت،، مظفرنگر، متھرا، کیرانہ، ہاتھرس، بجنوراور امروہہ کی سیٹ دینے کی پیشکش کی ہے۔

آزاد سماج پارٹی کے سربراہ چندر شیکھر مغربی یوپی کی نگینہ سیٹ سے الیکشن لڑیں گے۔ اس لیے اس سیٹ کو  دونوں پارٹیوں نے چھوڑ دیا ہے۔

لوک سبھا الیکشن کے ضمن میں سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو اور آر ایل ڈی کے سربراہ جینت چودھری کے درمیان اتفاق ہوگیا ہے۔ حالانکہ کانگریس پرابھی تعطل برقرار ہے۔

دوسری جانب اسپیکر اوم برلا نے پارلیمنٹ کی سیکیورٹی میں لاپروائی کے واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کی جارہی ہے۔ اس پر سیاست کرنا درست نہیں۔ ایوان میں بحث صرف جمہوری نظام کے تحت ہونی چاہیے۔

راشٹریہ لوک دل کے ریاستی صدر راماشیش رائے نے پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے نتائج آنے کے بعد 5 دسمبر کو لکھنؤ میں پارٹی کے اعلیٰ لیڈروں کی میٹنگ بلائی ہے۔

لوک سبھا انتخابات سے عین قبل مغربی یوپی کا مسئلہ اٹھانا کوئی چھوٹی بات نہیں ہے۔ یہ مسئلہ راشٹریہ لوک دل، سماج وادی پارٹی کے ساتھ ساتھ بی ایس پی کی پریشانیوں کو بڑھا سکتا ہے۔

اتحاد کے بارے میں نائب وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ ’’بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرنے کے لیے کسی کے لیے دروازے بند نہیں ہیں، لیکن یہ فیصلہ کیشو موریہ کا نہیں ہوسکتا، یہ فیصلہ قومی قیادت کا ہے۔‘‘

آر ایل ڈی کے قومی سیکریٹری ڈاکٹر راج کمار سنگوان کا کہنا ہے کہ عمران مسعود بڑے لیڈر ہیں، بات چیت کا دور چل رہا ہے۔ ہم پوری کوشش کر رہے ہیں کہ عمران مسعود آر ایل ڈی میں شامل ہو جائیں، اگر ایسا ہوتا ہے تو یقیناً 2024 میں آر ایل ڈی کو مغربی یوپی کے لیے بہت فائدہ ہوتا۔

آر ایل ڈی کے صدر جینت چودھری، جو حزب اختلاف کے اتحاد 'انڈین نیشنل ڈیولپمنٹ انکلوسیو الائنس' (انڈیا) کا حصہ ہیں، نے کہا کہ انہیں 2024 کے لوک سبھا انتخابات سے قبل اپنی نیت بدلنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی ہے