Bharat Express DD Free Dish

Israel-Palestine War

اسرائیل اورحماس کے درمیان جاری جنگ تھمتی ہوئی نظرنہیں آرہی ہے۔ اس درمیان امریکہ نے اسرائیل کو خاص نصیحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ فوجی حملے کو کم کرنے کا یہ صحیح وقت ہے۔

برطانیہ واقع چیریٹی آکس فیم نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ جنگ کے دوران فلسطینیوں کی صورتحال کھانے کی کمی کی وجہ سے مزید خراب ہوگئی ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس کے ارکان جو 7 اکتوبرکوغزہ سے جنوبی اسرائیل میں گھس آئے تھے۔ انہوں نے 240 اسرائیلیوں کو یرغمال بنا لیا، جن میں سے 130 اب بھی غزہ کی پٹی میں موجود ہیں۔

جنوبی افریقہ کی وکیل عدیلہ ہاسم نے اپنے دلائل میں کہا کہ اسرائیل کی بمباری مہم کا مقصد ’فلسطینیوں کی زندگی کو تباہ کرنا‘ ہے اور اس نے فلسطینیوں کو ’قحط کے دہانے پر‘ دھکیل دیا ہے۔

میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفترخارجہ ممتاززہرا بلوچ نے کہا کہ ’’پاکستان جنوبی افریقہ کی جانب سےغزہ کے فلسطینی عوام کے حق میں اسرائیل کو عالمی عدالت انصاف میں لے جانے کو سراہتا ہے، پاکستان اس حوالے سے جنوبی افریقہ کی حمایت کرتا ہے اورہم جنوبی افریقہ کے اس قانونی عمل کو بروقت سمجھتے ہیں۔‘‘

غزہ میں جنگ ابھی تک جاری ہے جس کا کوئی خاتمہ نظر نہیں آرہا ہے، جو چھوٹے ساحلی علاقے میں ایک انسانی تباہی کو ہوا دے رہا ہے۔ اس لڑائی نے اسرائیل اور لبنان کے حزب اللہ کے عسکریت پسندوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تشدد کو بھی جنم دیا ہے جس سے وسیع تر تصادم کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

Israel Hamas War Update: تین ماہ سے جاری جنگ کے درمیان اسرائیلی حملوں میں مرنے والوں کی تعداد 22 ہزار سے زیادہ ہوچکی ہے۔ جبکہ 7,000 سے زیادہ فلسطینی ابھی بھی لاپتہ ہیں۔

حماس کے ساتھ جاری جنگ کے درمیان اسرائیلی وزیردفاع یوآو گیلانٹ نے بتایا ہے کہ حماس کی شکست کے بعد غزہ میں کیا ہوگا اور اس پر کس کا کنٹرول ہوگا۔

اینٹنی بلنکن جمعرات کی شام واشنگٹن سے مشرق وسطیٰ کے دورے پر روانہ ہورہے ہیں۔ ان کے دورے میں اسرائیل بھی شامل ہے۔عہدے دار نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں تاہم انٹونی بلنکن اس سے قبل متعدد عرب ممالک کا دورہ کر چکے ہیں۔ سات اکتوبر کے بعد یہ بلنکن کا خطے کا چوتھا اور اسرائیل کا پانچواں دورہ ہوگا۔

حماس نے اعلان کیا ہے کہ صالح العاروری بیروت کے جنوبی مضافات میں ایک حملے میں القسام کے دو رہنماؤں اور چار دیگر کارکنوں کے ساتھ مارے گئے ہیں۔