Bharat Express DD Free Dish

Israel-Palestine War

وزارت صحت کے ذرائع نے کہا کہ جولاشییں اسرائیلی فوج لے گئی تھی، انہیں ریڈ کراس کے ذریعہ حماس افسران کولوٹا دیا گیا ہے، جنہیں غزہ کے ایک اجتماعی قبرستان میں دفن کردیا گیا ہے۔

اسماعیل ھنیہ نے کہا کہ حماس ہر اُس سنجیدہ اور عملی اقدام کا خیر مقدم کرے گی جو قیدیوں کے تبادلے سمیت غزہ میں جنگ و محاصرے کے خاتمے اور انفراسٹرکچر کی دوبارہ بحالی کا باعث بنے۔ واضح رہے کہ پیرس میں امریکہ، اسرائیل، مصر اور قطر کے مذاکرات کار غزہ میں جنگ بندی اور صیہونی قیدیوں کی رہائی کے لئے کسی نتیجے تک پہنچے ہیں۔

امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی نے میڈیا کو جاری اپنے ایک بیان میں اسرائیل کو بین الاقوامی عدالت ’آئی سی جے ‘ میں گھسیٹنے پر جنوبی افریقہ کی ستائش کرتے ہوئے حکومت ہند اور مسلم ممالک سے اپیل کی کہ وہ غزہ میں فوری جنگ بندی کے لئے اسرائیل پر دباؤ بنائیں۔

عالمی عدالت انصاف نے جمعہ کے روزجنوبی افریقہ کی اسرائیل کے خلاف درخواست پرعبوری حکم جاری کرتے ہوئے جنگ زدہ غزہ کے شہریوں کے لئے ہنگامی اقدامات کرنے کو کہا تھا۔ تاہم عدالت کی جانب سے جنگ بندی کا حکم نہیں دیا گیا۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے ایکس پلیٹ فارم پر حملے کے بارے میں اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ ’فوج اس واقعے کے بعد حقیقی بحران میں ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایسے واقعات سے سبق سکھیں گے تاکہ مستقبل میں ایسی کارروائیوں میں شریک فوجیوں کی زندگیوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ستمبر کے مہینے میں کہا تھا کہ اسرائیل ایک معاہدے کے "ابتدائی مرحلے پر" ہے، جو ان کے بقول مشرق وسطیٰ کو بدل دے گا۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان دانیال ہاگری نے منگل کوکہا ہے کہ غزہ میں شدید لڑائی کے دوران ایک ہی دن میں 21 اسرائیلی فوجی مارے گئے۔ یہ سات اکتوبر 2023 کے بعد سے ایک دن میں اسرائیلی فوج کا سب سے بڑا نقصان ہے۔

حماس نے پہلی بار کوئی عوامی رپورٹ جاری کی ہے۔ اس میں اس نے اسرائیل پراپنے حملوں کو صحیح ٹھہرایا ہے۔

شامی آبزرویٹری فارہیومن رائٹس، جوکہ حزبِ اختلاف کی جنگ پرنظررکھنے والی ایک تنظیم ہے، نے کہا کہ میزائل حملے میں کم از کم 6  افراد ہلاک ہوئے، جن میں پانچ ایرانی شہری اور ایک شامی شہری شامل ہے۔ ایران کے حمایت یافتہ گروپوں کے یہ اہلکارحملے کے وقت ایک میٹنگ کر رہے تھے۔

اسرائیلی وزیراعظم کو یہ احساس ہوگیا ہے کہ حماس کو فی الحال ختم کرنا یا اس جنگ کا خاتمہ مستقبل قریب میں ممکن نہیں ہے چونکہ حماس ابھی بھی جوان ہے۔اور اسی لئے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو  یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ غزہ کی پٹی میں حماس کے خلاف جنگ 2025ء تک جاری رہ سکتی ہے۔